صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا بین الاقوامی ٹیکسٹائل ایکسپو کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی ڈنر سے خطاب

لاہور۔11اپریل(اے پی پی )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ نئے ابھرتے ہوئے پاکستان میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں‘ ملک میں چیلنجز کے باوجود کاروبار کے بہترین مواقع موجود ہیں تاہم یہاں اعتماد کی فضاءکے قیام‘ ایمانداری اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے‘ کاروبار میں آسانی پیدا کرنیوالے ممالک میں پاکستان کی رینکنگ پہلے سے بہت بہتر ہوئی‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کیلئے نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا …

لاہور۔11اپریل(اے پی پی )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ نئے ابھرتے ہوئے پاکستان میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں‘ ملک میں چیلنجز کے باوجود کاروبار کے بہترین مواقع موجود ہیں تاہم یہاں اعتماد کی فضاءکے قیام‘ ایمانداری اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے‘ کاروبار میں آسانی پیدا کرنیوالے ممالک میں پاکستان کی رینکنگ پہلے سے بہت بہتر ہوئی‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کیلئے نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان خوش آئند ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ کسی کا استحصال نہ ہواور چائلڈ لیبر کے خاتمے سمیت یہ ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹری کے قیام کا باعث بنے‘وہ جمعرات کے روز گورنر ہاﺅس لاہور میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی ٹیکسٹائل ایکسپو کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی ڈنر سے خطاب کر رہے تھے‘ اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت‘ سرمایہ کاری‘ ٹیکسٹائل و پیداوار عبدالرزاق داﺅد‘ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل بھی موجود تھے‘ صدر مملکت نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نمائش میں 400 نمائش کنندگان کی طرف سے اپنی مصنوعات کے سٹال لگائے گئے جبکہ 300 غیر ملکی وفود بھی شرکت کر رہے ہیں اس سے نہ صرف پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو دوسرے ممالک میں پہچان حاصل ہو گی بلکہ اس سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی‘ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی وفود نمائش میں شرکت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تاریخی مقامات کی سیر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں جن میں لاہور میں شاہی قلعہ‘ شالیمار گارڈن سمیت دیگر مقامات شامل ہیں‘ انہوں نے کہا کہ معزز مہمان گلگت بلتستان ،کے پی کے کی خوبصورتی دیکھنے کے ساتھ ساتھ سندھ میں ساحل سمندر کا نظارہ بھی کرسکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ اب ان علاقوں میں جانے کا کوئی مسئلہ نہیں اسی طرح حکومت پاکستان نے مختلف ممالک کو ای ویزہ اور ویزہ آن آرائیول کی سہولت دینے کے ساتھ ساتھ ویزہ پالیسی میں نرمی لانے کیلئے اقدامات کئے ہیں جس سے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ کاروبار میں اضافہ میں مدد ملے گی‘ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے ترقی یافتہ بننے کیلئے کمیونیکیشن بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے جس کیلئے پاکستان موثر اقدامات اٹھا رہا ہے‘ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ سے ملک میں بڑی انڈسٹری آئے گی اسی طرح حکومت 7 سپیشل اکنامک زونز بنا رہی ہے جو جوائنٹ وینچر سمیت پاکستان میں انڈسٹری کے فروغ کی راہ ہموار کرینگے‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروبار میں آسانی پیدا کرنیوالے ممالک کی رینکنگ میں بہتری آئی جس طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہاں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا‘ صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کی گارمنٹس انڈسٹری سمیت فیشن انڈسٹری میں بہتر ٹیلنٹ موجود ہے جس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے‘ انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار بہت بہتر ہوا اور ہم گلوبل سٹینڈرڈ کی طرف جارہے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ حکومت تھائی لینڈ‘ ترکی‘ چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی طرف جارہی ہے جس سے پاکستانی مصنوعات کو دیگر ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو چاہئے کہ وہ بیرونی خرید کنندگان کو ان کے آرڈر وقت پر اور معیار کے مطابق ڈیلیور کریں تاکہ اعتماد کی فضاءقائم ہو‘ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان کاروباری برادری کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں‘ صدر مملکت نے نمائش کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی ‘ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت‘ سرمایہ کاری‘ ٹیکسٹائل و پیداوار عبدالرزاق داﺅدنے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان کی ٹریڈ میں دل کی حیثیت رکھتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ مذکورہ نمائش میں امریکہ‘ یورپ‘ مڈل ایسٹ‘ چین‘ آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں‘ ٹیکسپو کا مقصد پراڈکٹس کی تمام رینج کو ڈسپلے کرنا ہے کہ ملک کی برآمدات میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا حصہ 60 فیصد ہے جبکہ ہمارا گارمنٹس سیکٹر بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے‘ حکومت ایکسپورٹ گروتھ سٹرٹیجی پر عمل کر رہی ہے‘ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ریفارمز لانا ہمارے لئے ایک چیلنج ہے اسی طرح سپننگ انڈسٹری کی بہتری کے ساتھ ساتھ ویونگ سیکٹر میں نیو لومز کی ضرورت ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مصنوعات کی رسائی دیگر ممالک کی مارکیٹوں تک بڑھا رہا ہے‘ انڈونیشیاءنے ہمیں اپنی مارکیٹ تک رسائی دی ہے‘ چین کے ساتھ ایف ٹی اے بھی جلد ہو جائے گا اسی طرح ملائیشیائ‘ جاپان‘ کینیڈا کے ساتھ بھی مارکیٹ رسائی کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply