صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ایئر یونیورسٹی کے آٹھویں کانووکیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسانیت کی تکمیل کیلئے علم کو اہم ترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے دور میں علم کیلئے راستے کھلے ہیں جن سے استفادہ کرکے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، معاشرہ کے کمزور طبقات کیلئے ہمدردی کے جذبات اور ان کی فلاح و بہبود انتہائی ضروری ہے، جو …

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسانیت کی تکمیل کیلئے علم کو اہم ترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے دور میں علم کیلئے راستے کھلے ہیں جن سے استفادہ کرکے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، معاشرہ کے کمزور طبقات کیلئے ہمدردی کے جذبات اور ان کی فلاح و بہبود انتہائی ضروری ہے، جو معاشرہ اپنے کمزوروں کی بحالی پر کام نہ کرے ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں ایئر یونیورسٹی کے آٹھویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور، ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر وائس مارشل (ر) فائز امیر، طالب علموں، ان کے والدین اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانووکیشن میں 10 پی ایچ ڈی سکالرز سمیت 643 طالب علموں کو ڈگریاں عطاءکی گئیں۔ صدر مملکت نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علموں میں 17 طلائی تمغے اور 13 نقرئی تمغے کے علاوہ اسناد بھی تقسیم کیں۔ صدر نے علم کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی تکمیل کیلئے علم اہم ترین شعبہ ہے، اقوام نے علم کی روشنی پھیلا کر اپنے معاشروں کو ترقی دی۔ انہوں نے کہا کہ سکول سے باہر تقریباً 2 کروڑ بچوں کو تعلیم کی فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر انہیں نظر انداز کیا گیا تو وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کےلئے مساوات اشد اہمیت رکھتی ہے، ملک کیلئے وہ اشرافیہ اچھی نہیں ہوتی جو صرف اپنے لئے سوچے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے جب تک سب ملک کی فکر نہیں کریں گے ترقی نہیں ہوگی۔ صدر نے کہا کہ آج کے دور میں علم کیلئے راستے کھلے ہیں جبکہ افراد کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طالب علموں پر زور دیا کہ سند یافتہ ہونے کے بعد معاشرے کیلئے ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، وہ اپنی اپنی زندگیوں میں غریب لوگوں کو ہر گز نظر انداز نہ کریں، ان کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ نئے پاکستان کے خواب کو شرمندہ¿ تعبیر کیا جا سکے۔ صدر مملکت نے طلبائ، اساتذہ اور والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایئر یونیورسٹی نے علم کے میدان میں نئی جہتیں متعارف کرائی ہیں۔ صدر مملکت نے کچی آبادیوں اور دیگر علاقوں کے بچوں کے سکول میں داخلوں کے حوالہ سے والدین کو راغب کرنے کیلئے ایئر یونیورسٹی کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی اسلام کا حقیقی جذبہ ہے۔ صدر نے کہا کہ اسلام یتیموں اور مساکین کے ساتھ محبت کا درس دیتا ہے، دوسروں کےلئے ہمدردی کے جذبات معاشرے کیلئے انتہائی ضروری ہیں جو معاشرہ اپنے کمزوروں کی بحالی پر کام نہ کرے ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ کمزور طالب علموں کو اپنے تعلیمی کیریئر میں کامیابی کیلئے ان کا حوصلہ بڑھائیں اور ہر ممکنہ معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کئی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد پاکستان اب آگے بڑھ رہا ہے۔ صدر نے پاکستان میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان آبادی کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتی ہے، پاکستان کے نوجوانوں سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں، نوجوان نئے پاکستان کی تعمیر اپنا کردار ادا کریں۔ وائس چانسلر فائز امیر نے فارغ التحصیل طالب علموں اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں نصابی کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں سماجی بہبود کے کاموں کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 247 فیکلٹی ممبرز میں سے 45 فیصد پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں جو اسلام آباد، کامرہ اور ملتان میں ایئر یونیورسٹی کے تین کیمپسز میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے صدر مملکت کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ وائس چانسلر نے بھی پاک فضائیہ کے سربراہ کو شیلڈ پیش کی۔

مزید خبریں

Leave a Reply