اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے سیکورٹی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ سرحد کے تحفظ کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے' دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو ایران کے صدر …
وزیراعظم عمران خان کا ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے سیکورٹی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ سرحد کے تحفظ کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے’ دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین پر دہشت گرد سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے اور دونوں ممالک کے سیکورٹی چیفس تعاون کے راستے تلاش کرنے کے لئے تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد میں اضافہ ہوگا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ وہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ملک میں کسی بھی عسکری گروہ کو ختم کر رہی ہے اور ایسا کسی بیرونی دبائو میں نہیں کیا گیا بلکہ تمام سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کو بھی اور کسی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 سال کے دوران پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور دہشت گرد حملوں میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔ ہم افغانستان سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو نیٹو اور افغان سیکورٹی فورسز کی طاقت کے باوجود پاکستان کی طرح عسکریت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ وزیراعظم عمران خان ایرانی صدر حسن روحانی کی دعوت پر دوطرفہ اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے وفد کے ہمراہ ایران کے دو روزہ سرکاری دورہ پر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چند روز قبل دہشت گردوں نے پاکستان کے 14 سیکورٹی اہلکاروں کو اُرماڑہ بلوچستان میں شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایران بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں 4 عشروں سے جاری جنگ نے پاکستان اور ایران دونوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغان تنازعہ کے سیاسی حل میں مدد دینے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے کیونکہ جنگ سے متاثرہ افغانستان میں امن پاکستان اور ایران دونوں کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن سے خطے میں تجارت کو فروغ حاصل ہو گا جس سے خطے کے عوام کے لئے خوشحالی کے دروازے کھلے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کے حوالہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ بہت نا انصافی ہوئی ہے، اسرائیل کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضے، یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سے مشرق وسطیٰ میں مزید غیر یقینی پیدا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر کے معاملے پر قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کشمیر کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے گا تاہم بدقسمتی سے گزشتہ تیس سالوں سے بھارت کی ظالم مسلح افواج کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارت کی ظالم افواج نے 70 ہزار شہریوں کو شہید کیا ہے، تنازعہ کشمیر کا واحد حل بات چیت اور سیاسی تصفیہ ہے نہ کہ طاقت کا استعمال۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر حل ہونے سے پورا برصغیر آگے بڑھے گا جس سے پورے خطے اور ایران کو بھی فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف سے امن قائم ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کا دورہ ایران پاکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے اہم ثابت ہو گا۔ انہوں نے ایران کے صدر حسن روحانی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 1972ء میں انہوں نے دیکھا کہ امیر اور غریب کے مابین بہت فرق موجود تھا لیکن اب انہوں نے دیکھا ہے کہ ایرانی معاشرے میں مساوات ہے اور یہ سب انقلاب کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے پاکستان میں ایسا انقلاب لانا چاہتے ہیں جس میں غریب اور امیر کے مابین تفریق ختم ہو جائے۔ قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے کا عزم کئے ہوئے ہے اور کوئی تیسرا ملک ہمارے برادرانہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے بات چیت کے دوران انہوں نے سرحدی سلامتی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کوئی بھی گروہ جو غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث ہو، اس سے دہشت گرد جیسا سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس قائم کرنے اور مشترکہ سرحد کی حفاظت پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ دونوں اطراف نے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے اور گیس پائپ لائن پاکستان کے ساتھ جوڑنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کو بجلی کی برآمد 10 گنا تک بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی اور برآمدی توازن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ دونوں اطراف نے دونوں ممالک کے مابین اشیاء کے تبادلے کے لئے بارٹر کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ چابہار اور گوادر کی بندرگاہوں کو دونوں ممالک کے عوام کے فائدے کے لئے ریلویز کے نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف نے دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات اور افغانستان میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکی اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے بانی ہیں اور وہ استنبول سے اسلام آباد تک ریلوے لائن کی بحالی کے خواہاں ہیں تاکہ ایران اور ترکی کے ذریعے یورپ اور چین کے مابین رابطہ استوار ہو سکے۔ قبل ازیں پاکستان اور ایران نے صحت کے شعبہ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ایران کی طرف سے ایرانی وزیر صحت سعید مماکی نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔








