معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی شہزاد اکبر کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 18 جون (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے ایکٹ آف پارلیمنٹ 2017کے تحت گذشتہ 10سالوں کے دوران 24ہزار ارب بیرون قرضوں کی وجوہات اور انکے استعمال کی پڑتال کے لئے اعلی اختیاراتی کمیشن کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے ،اعلی اختیاراتی کمیشن کے سربراہ اصغر حسین ہونگے ،کمیشن 6ماہ میں حتمی جبکہ ماہانہ عبوری رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا پابند ہوگا ،وفاقی کابینہ نے اس امر …

اسلام آباد ۔ 18 جون (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے ایکٹ آف پارلیمنٹ 2017کے تحت گذشتہ 10سالوں کے دوران 24ہزار ارب بیرون قرضوں کی وجوہات اور انکے استعمال کی پڑتال کے لئے اعلی اختیاراتی کمیشن کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے ،اعلی اختیاراتی کمیشن کے سربراہ اصغر حسین ہونگے ،کمیشن 6ماہ میں حتمی جبکہ ماہانہ عبوری رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا پابند ہوگا ،وفاقی کابینہ نے اس امر کو دہرایا کہ کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث عناصر پروڈکشن آرڈرکی سہولت کے مستحق نہیں، پروڈکشن آرڈرکے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کو پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گھومنے پھرنے کی اجازت دینے کا اختیار سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ، سپیکر قومی اسمبلی کو چاہیے کہ وہ سیاسی قیدی اور کرپشن میں ملوث ملزمان میں فرق واضح کریں ،وفاقی کابینہ نے کرپشن اور لوٹ مار کرنے والوں کو پروٹوکول دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،وزراءاعلی کرپشن میں ملوث افراد کو پروٹوکول دینے والے کلچر کو ختم کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جون 2008ءمیں ملکی قرضہ 6690 ارب روپے تھا جو کہ ستمبر 2018ءمیں 30846 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا، قوانین کے مطابق کل قرضے کا حجم ملکی جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تک محدود ہونا چاہیے لیکن محض دس سالوں میں یہ قرضہ ساٹھ فیصد سے کئی گنا تجاوز کر گیا۔

Leave a Reply