اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم آفس کے بجٹ و اخراجات کے بارے میں میڈیا میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال 2018-19ءکے لیے وزیراعظم آفس کا مالیاتی تخمینہ 98 کروڑ 60 لاکھ روپے تھا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس دو حصوں پبلک اور انٹرنل پر …
وزارتِ خزانہ کی وزیراعظم آفس کے بجٹ و اخراجات کے بارے میں میڈیا میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے وضاحت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم آفس کے بجٹ و اخراجات کے بارے میں میڈیا میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال 2018-19ءکے لیے وزیراعظم آفس کا مالیاتی تخمینہ 98 کروڑ 60 لاکھ روپے تھا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس دو حصوں پبلک اور انٹرنل پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم آفس نے کفایت شعاری کی ابتدا اپنے ہی آفس سے کی اور نہایت کامیابی سے رواں مالی سال کے جون تک کے اخراجات کو 67 کروڑ 50 لاکھ روپے میں مکمل کر دیا اور یوں اخراجات میں 32 فیصدنمایاں بچت کی۔ وزیراعظم آفس (پبلک) کے اخراجات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیراعظم آفس نے 51 کروڑ 40 لاکھ روپے کے بجٹ کی موجودگی میں 41 فیصد بچت کرتے ہوئے اپنے اخراجات کو 30کروڑ پچاس لاکھ روپے میں پورا کرلیا جبکہ وزیراعظم آفس (انٹرنل) نے 22 فیصد بچت کرتے ہوئے اپنے اخراجات کو 37 کروڑ تک محدود رکھا حالانکہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے 47 کروڑ 20 لاکھ روپے تک کے اخراجات کئے جا سکتے تھے۔ حکومت کی طرف سے کفایت شعاری اور سرکاری اخراجات میں توازن لانے کے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے وزیراعظم آفس میں ملازمین کی تعداد میں 35 فیصد نمایاں کمی کی گئی۔








