تمباکو ٹیکس اصلاحات سے اربوں کے نقصان سے بچا جاسکے گا، صدر پاکستان نیشنل ہارٹ ایسو سی ایشن

راولپنڈی ۔ 9 اگست (اے پی پی) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسو سی ایشن (پناہ) کے صدر میجر جنرل مسعود الرحمن کیانی نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم چلا رہے ہیں ، شکر اللہ پاک کا کہ ہمیں بہت سی کامیابیاں بھی ہوئی ہیں سگریٹ پر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم کو بہتر بنانے او ر تھرڈ ٹیئر کو ختم کرنے پرہم حکومت کے …

راولپنڈی ۔ 9 اگست (اے پی پی) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسو سی ایشن (پناہ) کے صدر میجر جنرل مسعود الرحمن کیانی نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم چلا رہے ہیں ، شکر اللہ پاک کا کہ ہمیں بہت سی کامیابیاں بھی ہوئی ہیں سگریٹ پر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم کو بہتر بنانے او ر تھرڈ ٹیئر کو ختم کرنے پرہم حکومت کے بے حدمشکور ہیں جس سے ہم سگریٹ کی غیر قانونی روک تھام اور تمباکو ٹیکس اصلاحات سے تھرڈٹیئرکو ختم کرنے سے ریونیو کی مد میں اربوں کے نقصان سے بچا جاسکے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزراولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں نیشنل ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں میجرجنرل (ر) محمد اشرف خان ، لیفٹیننٹ جنرل(ر) مصطفی کمال اکبر، میجر جنرل آصف علی خان،میجر جنرل (ر)ڈاکٹر ظہیرالدین، میجر جنرل عاشور خان ،بریگیڈیئر ڈاکٹر منیر احمد چیمہ، پروفیسر کرنل (ر) ڈاکٹر گل حسین ، کرنل اعجازاحمد رفیع، سکاڈرلیڈر (ر) غلام عباس، پروفیسر ڈاکٹر واجدعلی ، پروفیسر ڈاکٹر دانش ،پروفیسر ڈاکٹر اشرف محمود،پروفیسر ڈاکٹر اظہرسلیم،ڈاکٹرذاہدہ،پروفیسر ڈاکٹر طاہر،پروفیسر ڈاکٹر مشتاق شیخ،پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلام ،ڈاکٹرمہدی حسن، جنرل سیکرٹری پناہ ثناء اللہ گھمن کے علاوہ میڈیا اور سول سوسائیٹی کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر میجرجنرل (ر) محمد اشرف خان نے کہاکہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سا لانہ تقریبا1لاکھ 75 ہزار لوگ تمباکو نوشی کی وجہ سے مر رہے ہیں یعنی ہر تین منٹ بعد ایک موت ہو رہی ہے۔پاکستان میں روزانہ تقریباً5000 لوگ تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہور ہے ہیں۔نیشنل ایڈوائزری بورڈکے ممبران نے کیبنٹ ڈویژن سے سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی منظوری کو سراہا اور حکومت سے اپیل کی کہ ہیلتھ لیوی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور دوکانوں پر سگریٹ کے اشتہارات ،تعلیمی مراکز کے قریب سگریٹ کی فروخت اور 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے تاکہ لوگوں اور خاص طور پر نوجوان بچوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے بچایا جاسکے اور ہیلتھ بجٹ میں اضافہ ممکن ہوسکے۔ جنرل سیکرٹری پناہ ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ سگریٹ نوشی پر کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں یومیہ تقریباً 12 سو بچے جن کی عمریں تقریباً 6 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں، وہ سگریٹ پینے کا آغاز کرتے ہیں۔ تقریباً روزانہ ہر 5 میں سے 2بچے دس سال سے کم عمر میںہی سگریٹ نوشی کاآغاز کر دیتے ہیںجبکہ13سے 15سال کی عمرکے32% بچے دوکانوں میں لگے سگریٹ کے اشتہارات سے متاثر ہوکر سگریٹ نوشی کی لت میں لگ جاتے ہیں۔

مزید خبریں