اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ نے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہ کرنے کے بارے میں دوطرفہ انتظام کیلئے بھارت کو پاکستان کی پیشکش کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ میں امن و استحکام کے وسیع تر مفاد اور اسلحہ کی دوڑ سے گریز کیلئے پاکستان نے اس امکان کا عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک اس ضمن میں دوطرفہ انتظام …
انیس سو اٹھانوے میں جوہری تجربات کے بعد پاکستان نے بھارت کو جوہری تجربات پر جامع پابندی کے معاہدہ (سی ٹی بی ٹی) کی ایک ساتھ پیروی کی پیشکش کی تھی جس کا بھارت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ نے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہ کرنے کے بارے میں دوطرفہ انتظام کیلئے بھارت کو پاکستان کی پیشکش کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ میں امن و استحکام کے وسیع تر مفاد اور اسلحہ کی دوڑ سے گریز کیلئے پاکستان نے اس امکان کا عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک اس ضمن میں دوطرفہ انتظام (ارینجمنٹ) پر غور کر سکتے ہیں جو جنوبی ایشیاءمیں ضبط و تحمل کے فروغ کی اس کی پالیسی اور سی ٹی بی ٹی کے مقاصد کیلئے مسلسل حمایت کا عکاس ہے۔ جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہ کرنے کے بارے میں دوطرفہ انتظام کیلئے بھارت کو پاکستان کی پیشکش کے حوالہ سے 12 اگست 2016ءکو مشیر برائے خارجہ امور کی طرف سے کئے گئے اعلان کے ضمن میں میڈیا استفسارات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت کی کہ 1998ءمیں جوہری تجربات کے بعد پاکستان نے بھارت کو جوہری تجربات پر جامع پابندی کے معاہدہ (سی ٹی بی ٹی) کی ایک ساتھ پیروی کی پیشکش کی تھی جس کا بھارت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔








