کشمیرمیں بھارتی فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدیدخلاف ورزی ہے، کویتاکرشنن

کولکتہ۔ 7 ستمبر (اے پی پی)انسانی حقوق کی معروف بھارتی کارکن اور'' آل انڈیا پروگریسو وومنز ایسوسی ایشن'' کی سیکرٹری کویتا کرشنن نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ کشمیر میڈیا سرو س کے مطابق کویتا کرشنن نے، جو اس بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں جو گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، کولکتہ …

کولکتہ۔ 7 ستمبر (اے پی پی)انسانی حقوق کی معروف بھارتی کارکن اور” آل انڈیا پروگریسو وومنز ایسوسی ایشن” کی سیکرٹری کویتا کرشنن نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ کشمیر میڈیا سرو س کے مطابق کویتا کرشنن نے، جو اس بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں جو گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کشمیر ایک ماہ سے زائد عرصے سے محاصرے میں ہے جو ایک انتہائی غیر معمولی اقدام اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران ” کشمیر محاصرے میں ” کے نام ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی جو اس صورتحال پر مبنی ہے جسکا کویتا او ر ٹیم کے دیگر ارکا ن نے کشمیر میںمشاہدکیا ۔ کشمیر کا دورہ کرنے والے دیگر ارکان میں Jean Dreze،میمونہ مہلہ اور ومل بھائی شامل تھے۔ اس ٹیم نے اپنے مقبوضہ کشمیر کے دورے کو خفیہ رکھا تھا اور وہ 9اگست کو جب بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو چار روز گزرے تھے کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو ئی تھی ۔ ٹیم تیرہ اگست تک کشمیر میں رہی تھی اوراس دوران وہاں اپنے مشاہات ریکارڑ کرتی رہی۔ کویتا نے پریس کانفرنس کے دوران کشمیری بچوں کی غیر قانونی گرفتاری اور ان پر تشدد کو انتہائی اشتعال انگریز قرار دیا ۔

مزید خبریں