وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں اٹھایا ہے اس سے بھارت کو سلامتی کونسل' یورپی یونین اور جنیوا سمیت مختلف فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے' اپوزیشن کو اس معاملے پر کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے' پروڈکشن آرڈرز …

اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں اٹھایا ہے اس سے بھارت کو سلامتی کونسل’ یورپی یونین اور جنیوا سمیت مختلف فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے’ اپوزیشن کو اس معاملے پر کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے’ پروڈکشن آرڈرز کے معاملہ پر اپوزیشن کو عدالت جانے کا حق حاصل ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بھی بات سپیکر چیمبر میں ہونی چاہیے’ ہم وفاق پاکستان اور وفاقی اکائیوں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں’ صوبائی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے’ صوبائی حکومت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ نہیں ہے’ وزیر قانون نے اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے’ اپوزیشن کی تشویش ختم ہو جانی چاہیے تھی’ بلاول بھٹو سیاست میں نئے ہیں’ سیاسی دبائو میں آکر انہیں سندھو دیش کی بات کرنا زیب نہیں دیتا’ ملک میں کہیں بھی صوبائی تعصب نہیں ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھ سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ میں نے کسی انٹرویو میں کہہ دیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو اس بات پر اطمینان ہونا چاہیے کہ اب تک ہم نے جو کچھ کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ میرا اور پورے پاکستان کا موقف یکساں رہا ہے۔ بھارت کو عالمی سطح پر اس صورتحال میں تاریخی سبکی اٹھانی پڑی۔ یورپی یونین’ اسلامی ممالک دنیا کے 158 ممالک نے اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے موقف کو تسلیم کیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی کانگریس کے چار سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے اس لئے امریکی صدر مداخلت کریں۔ یورپی یونین کے ممالک نے بھی اس حوالے سے خط و کتابت کی ہے۔ 17 ستمبر کو یورپی یونین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کو اللہ نے یہ شرف بخشا ہے کہ مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اٹھایا گیا ہے۔ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اس ملک کی اہم اکائی ہے۔ ہم سندھ اسمبلی کے ماضی کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم وفاق پاکستان پر یقین رکھتے ہیں۔ صوبائی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ صوبائی حکومت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزیر قانون نے اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے۔ اپوزیشن کی تشویش ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ابھی سیاسی سفر شروع کیا ہے سیاسی دبائو میں آکر ان کے لئے سندھو دیش کی بات کرنا درست نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے صوبائی تعصب کو دفن کیا ہے اور ہمیشہ وفاق کی بات کی ہے۔ اس پارٹی کے موجودہ چیئرمین کو سندھ کارڈ کا استعمال زیب نہیں دیتا۔ سندھو دیش اور پختونستان کی بات کرنے والے دفن ہوگئے ہیں۔ سندھ کا ایک ایک شہری وفاق پاکستان کا ساتھ دے گا۔ ملک میں کسی قسم کا صوبائی تعصب نہیں ہے۔ ہم مہاجروں کی بھی پاکستان کے لئے قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے اپوزیشن کو سپیکر کے موقف سے اتفاق کرنا چاہیے۔ چیئر سے متعلق معاملات ہمیشہ سپیکر چیمبر میں اٹھائے جانے کی روایت ہے۔ کسی نے انیں نہیں روکا’ عدالت جانے کا انہیں حق حاصل ہے۔ صدر کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے احتجاج سے یہ تاثر آیا کہ اپوزیشن نے کشمیر کے مسئلے پر پروڈکشن آرڈرز کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔