اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، بڑی طاقتیں روس،چین اور امریکہ اپنے اثر و رسووخ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ سمیت متعدد دیگر بین الاقوامی معاملات حل کرائیں۔دو ایٹمی ممالک کے مابین تنازعہ ناقابل تصور ہے،اس سے پہلے کہ یہ خطہ …
وزیر اعظم عمران خان کا روسی ٹی وی ’رشیا ٹو ڈے‘ کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، بڑی طاقتیں روس،چین اور امریکہ اپنے اثر و رسووخ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ سمیت متعدد دیگر بین الاقوامی معاملات حل کرائیں۔دو ایٹمی ممالک کے مابین تنازعہ ناقابل تصور ہے،اس سے پہلے کہ یہ خطہ فلیش پوائنٹ بن جائے دنیا کو مداخلت کرنی چاہیے۔ جمعہ کو روسی ٹی وی ’رشیا ٹو ڈے‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتین امریکہ،روس اور چین کو مل کر کشمیر کا دیرینہ تنازعہ سمیت دیگر بین الاقوامی معاملات کو حل کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں کشمیر کے معاملے پر دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔عمران خان نے کہا کہ نئی دہلی جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے ،اس کے منفی نتائج پورے بر صغیر پر مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیوکلیئر ہاٹ سپاٹ بنتا جا رہا ہے۔اگر یہ پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کا فلیش پوائنٹ بن گیا، تو دونوں ایٹمی ممالک آمنے سامنے آ سکتے ہیں ،اس لئے دنیا کو اب مداخلت کرنی چاہیے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران ماسکو اور اسلام آباد ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں تاہم اب ہمیں ماضی کو پس پشت ڈال کر نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا ہونگے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہمیں نئے سرے سے تعلقات کو استوار کرنا چاہیئے اور مجھے امید ہے کہ روس پاکستان کے قریب آسکتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ولادی میرپیوٹن کی آواز دنیا میں سنی جاتی ہے ،اگر روس ، چین اور امریکہ مل کر فیصلہ کرلیں تو تینوں مسئلہ کشمیر دیگر عالمی معاملات کو حل کر سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارتی پاگل پن کا مخالف ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذ مہ داری کو محسوس کرے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کے بارے میں بات نہیں کر سکتا کیو نکہ یہ جنگ کوئی بھی جیت نہیں سکے گا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے بعد برطانیہ،فرانس اور جرمنی سمیت اقوام متحدہ، اور یورپین یونین کو کشمیر کا انسانی بحران اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔








