جینیوا ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افریقہ اور ایشیا کے چار ممالک کی تقریب ایک تہائی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران تھپڑمارے جانے اور ان کا مذاق اڑائے جانے جیسے زلتآمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طبی جریدے دی لانسٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نائجیریا، میانمار، گھانا اور گنی سے تعلق رکھنے والی خواتین …
حاملہ خواتین زلتآمیز رویے کا شکارہیں،عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جینیوا ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افریقہ اور ایشیا کے چار ممالک کی تقریب ایک تہائی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران تھپڑمارے جانے اور ان کا مذاق اڑائے جانے جیسے زلتآمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طبی جریدے دی لانسٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نائجیریا، میانمار، گھانا اور گنی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی زیادہ تر تعداد کے بچے قدرتی طریقے کے بجائے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے اور طبی عملے نے خواتین سے آپریشن کرنے کی اجازت بھی نہ لی۔عالمی ادارہءصحت کی تحقیق میں دو ہزار خواتین کوبچوں کی پیدائش کے دوران پیش آنے والی صورتحال کا مشاہدہ کیا گیا اورزچگیکے بعد 2600 خواتین کے انٹرویو کیے گئے۔ ان خواتین میں 42 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں بچے کی پیدائش کے دوران جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق زیادہ تر کم پڑھی لکھی اور نوجوان خواتین کوزلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ واقعات میں تو ایسی خواتین کو حراست میں لیا گیا جو بچے کی پیدائش کے وقت فراہم کی جانے والی طبی سہولت کی فیس ادا کرنے سے قاصر تھیں۔رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک بچے کی پیدائش سے تقریباً پندرہ منٹ قبل شروع کیا جاتا تھا۔








