یونیسیف کے زیر اہتمام بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے موضوع پر میڈیا ڈائیلاگ کا انعقاد

اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے اسلام آباد میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے موضوع پر ایک میڈیا ڈائیلاگ (مکالمے) کا انعقاد کیا۔ یہ میڈیا ڈائیلاگ وزارتِ صحت، حکومتِ پاکستان کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں ماں کے د±ودھ کے فوائد کو اجاگر کیا گیا۔ ڈائیلاگ کے دوران ہونے والی گفتگو میں قومی اسمبلی کی ر±کن …

اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے اسلام آباد میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے موضوع پر ایک میڈیا ڈائیلاگ (مکالمے) کا انعقاد کیا۔ یہ میڈیا ڈائیلاگ وزارتِ صحت، حکومتِ پاکستان کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں ماں کے د±ودھ کے فوائد کو اجاگر کیا گیا۔ ڈائیلاگ کے دوران ہونے والی گفتگو میں قومی اسمبلی کی ر±کن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی و اصلاحات محترمہ کنول شوذب، صوبہ خیبر پختونخوا کی سینٹر محترمہ ڈاکٹر مہر تاج روغانی اور ڈائریکٹر غذائی امور وزارتِ صحت ڈاکٹر بصیر اچکزئی سمیت دیگر نمایاں شخصیات نے حصہ لیا۔گفتگو کے دوران موجودہ مشکلات اور ماں کا دودھ پلانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالی گئی۔ مکالمے کے شرکاءنے کہا کہ ماں کا دودھ ماں اور بچے میں بیماری اور اموات کی شرح میں کمی کا باعث بنتا ہے اور ماں کے دودھ پر پلنے و الے بچے اعلیٰ ذہانت کے حامل ہوتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماں کا دودھ زندگیاں بچانے اور صحت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ماں کا دودھ نہ پلانے کی وجہ سے ہر سال مختلف ممالک کو 302 بلین ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ماں کا دودھ عوامی صحت کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ ماں کا دودھ مکمل غذا ہے اور قدرتی ، غذائی لحاظ سے سو فی صد متوازن اور کم خرچ ہے۔ ماں کا دودھ نومولود بچوں کے لئے بچپن تک انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ کا فائدہ نہ صرف بچے کو پہنچتا ہے بلکہ یہ ماں اور پورے خاندان کے لئے افادیت کا حامل ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ دینا اور کچھ عرصے تک صرف ماں کا دودھ دیتے رہنا بہت سے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول میں بھی مدد دیتا ہے۔ ماں کا دودھ غذائی کمی دور کرتا ہے، بچوں کی شرح اموات میں کمی لاتا ہے اور انہیں غیر چھوتی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماں کا دودھ بچوں کی ذہنی نشو و نما اور تعلیم کے حصول میں مدد دیتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ ، ماں کا دودھ غربت کے خاتمے میں بھی مدد دیتا ہے اور اس کی مدد سے معاشی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور عدم مساوات میں کمی آتی ہے۔ یہ سب ان پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) میں شامل ہیں پاکستان نے جن کے حصول کا عزم کررکھا ہے۔ قومی غذائی سروے 2018 سے حاصل ہونے والے اعدادو شمار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ 10 میں 4 یا 5 مائیں زچگی کے فوراً بعد پہلے گھنٹے سے ہی بچے کو اپنا دودھ پلانا شروع کردیتی ہیں اور یہ سلسلہ چھ ماہ تک جاری رکھتی ہیں جو بچوں کو غذائی مسائل اور ان سے جڑے صحت کے مسائل سے بچانے کے لئے ایک انتہائی ضروری اقدام ہے۔ میڈیا ڈائیلاگ کے دوران ماہرین کے ساتھ ساتھ شرکاءنے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ بچوں کو درپیش نشو و نما کی کمی اور عضلاتی کمزوری سے بچانے اور دیگر غذائی مسائل کے حل کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی نے کہا کہ ”شواہد بتاتے ہیں کہ 22 فی صد نومولود بچوں کی اموات سے بچا جاسکتا ہے اگر ہم پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچوں کو ماں کا دودھ پلانا شروع کردیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہ چھاتی کے کینسر سے بچ سکتی ہیں۔ اس موقع پر یونیسیف کے نمائندہ نے بتایا کہ ماں کے دودھ سے محروم رکھے جانے والے بچوں کے ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی نسبت نمونیہ کا شکار ہونے کے امکانات 15 گنا جبکہ ہیضہ کا شکار ہوکر موت کا شکار ہونے کے امکانات 11 فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔ اس موقع پر محترمہ کنول شوذب نے کہا کہ ماں کا دودھ زچہ و بچہ کی صحت کی حفاظت کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ یہ بچے کی صحت مند نشو و نما اور ابتدائی دنوں میں شاندار افزائش کا ضامن ہے۔ سینٹر ڈاکٹر تاج روغانی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کو زندگی کا بہترین آغاز فراہم کرتا ہے۔ اس ڈائیلاگ میں حکومتِ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کے علاوہ یونیسیف کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ماں کا دودھ پلانے کے عمل کے فروغ کی مدد سے بچوں کی اہم غذائی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ فوری اور مخصوص عرصے تک صرف ماں کا دودھ پلانے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ گفتگو میں شریک ہونے والوں نے بچوں کی غذائیت کے مسئلے پر قانون سازی پر زور دیا اور خاص طور پر ماں کے دودھ کے متبادل کے طور پر فراہم کئے جانے والے فارمولا دودھ کے سلسلے میں قانون سازی پر زور دیا گیا۔