اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی)سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کھیل کے شعبے کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر کھیل کے میدانوں کی سکیم جلد شروع کی جائے گی، موبائل اور کمپیوٹر نے بچوں اور بڑوں کو کمروں تک محدود کر دیا ہے جس کے صحت پر اچھے اثرات مرتب نہیں …
سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر سید شبلی فراز کا کسان سپورٹ سروسز پرائیوٹ لمیٹڈ کے زیر اہتمام فٹسال کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی)سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کھیل کے شعبے کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر کھیل کے میدانوں کی سکیم جلد شروع کی جائے گی، موبائل اور کمپیوٹر نے بچوں اور بڑوں کو کمروں تک محدود کر دیا ہے جس کے صحت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے، صحت مند معاشرے کیلئے سپورٹس کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سید شبلی فراز نے کسان سپورٹ سروسز پرائیوٹ لیمیٹیڈ کے زیر اہتمام فٹسال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کھیل انسان کو نظم و ضبط کا سبق سکھاتا ہے۔ قوت برداشت اور اتفاق اور اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور وقت کی اہمیت کا احساس پیدا کر کے انسان کو کار آمد بناتا ہے۔کھیلوں کی ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کھیل سے انسان میں چستی پھرتی اور ایسی قائدانہ صلاحتیں پیدا ہوتی ہیں جو کسی اور جگہ سے نہیں مل سکتیں مگر موجودہ دور میں کھلیوں کے میدان ویران ہو چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کے کھیل کے میدان آباد ہو ں گے اس ملک کے ہسپتال ویران ہونگے۔ زرعی ترقیاتی بنک اور یہ ادارہ سپورٹس کے فروغ کیلئے نمایاں کام کر رہا ہے۔ ہر بنک کو اس طرح کی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیں۔ ملک میں سپورٹس کے شعبے کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے تمام اداروں کا تعاون بہتری لا سکتا ہے۔سپورٹس کے فروغ کیلئے پارلیمنٹ بہتر قانون سازی کرے گا۔ صدر زرعی ترقیاتی بنک شیخ امان اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کا کہا کہ موجود حکومت کی دلچسپی کی وجہ سے کھلیوں کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق زرعی ترقیاتی بنک نے اسلامک بینکنگ کا آغازکر دیا ہے اور اس بنک کی500 برانچوں میں سے 200 برانچیں پسماندہ علاقوں میں قائم کی گئی ہیں جہاں اے ٹی ایم کے ذریعے لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور آزاد جموں و کشمیر میں لائیو سٹاک کے فروغ کیلئے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے بغیر سود کے دیئے جائیں گے۔ گلگت بلتستان کے علاقوں میں 17 ارب کی مصنوعات دیگر علاقوں سے منگوائی جاتی ہیں۔ جوائنٹ وینچر کے ذریعے سمارٹ یونٹ قائم کیے جائیں جس کیلئے بغیر سود کے 2 ارب کے قرضے دیئے جائیں گے جس سے ہزاروں لوگ مستفید ہونگے۔ قائد ایوان سینیٹ نے تقریب کے اختتام پر کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔








