اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ آزادی مارچ میں کسی بھی غیر آئینی اقدام جس سے قومی مفادات اور مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچ سکتا ہے کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ ملک کو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ۔ نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں …
آزادی مارچ میں کسی بھی غیر آئینی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ،سینیٹر فیصل جاوید

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ آزادی مارچ میں کسی بھی غیر آئینی اقدام جس سے قومی مفادات اور مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچ سکتا ہے کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ ملک کو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ۔ نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن ہونا چاہئے اور اس میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا ٹھیک نہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا کے آزادی مارچ کے اعلان سے مسئلہ کشمیر پس منظر میں چلا گیا ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ پانچ دہائیوں سے جاری مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر کے دنیا کی توجہ اس پر مبذول کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ ملک میں مظاہروں اور مارچوں کا ڈرامہ پیش کرکے مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا کے ایجنڈے کا مقصد تباہی اور چور دروازوں سے نشستیں حاصل کرنا ہے جبکہ عمران خان کا ایجنڈا پاکستان کو مضبوط اور خوشحال بنانا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانا ہے ۔فیصل جاوید نے کہا کہ شرکاء کے پرامن نہ رہنے کی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے کیونکہ اس سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔فیصل جاوید نے کہا مولانا فضل الرحمٰن ماضی میں ہر حکومت کی بس میں بیٹھے ، صرف اس بار بے بس ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مولانا کو کوئی عہدہ مل جاتا ہے تو وہ مارچ کے لئے اپنی کال واپس لے لیں گے۔انہوں نے سوال کیا کہ مولانا کس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، اور آزادی مارچ کے شرکاء کس طرح کے دھرنے دیں گے، ان کے مطالبات بھی واضح نہیں ہیں۔








