اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی منڈی میں طلب و رسد میں توازن پیدا کرنے کے لئے پاسکو کے ذخیرہ سے خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کو ساڑھے چھ لاکھ ٹن گندم دینے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کیبنٹ بلاک میں ہونے …
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی منڈی میں طلب و رسد میں توازن پیدا کرنے کے لئے پاسکو کے ذخیرہ سے خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کو ساڑھے چھ لاکھ ٹن گندم دینے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کیبنٹ بلاک میں ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملک میں گندم کی صورتحال بالخصوص گندم کی قیمت بڑھنے کے رجحان پر غور کیا گیا اور وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کی طرف سے خیبرپختونخوا اور سندھ کو تین، تین لاکھ ٹن جبکہ بلوچستان کو پچاس ہزار ٹن گندم مہیا کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے پاسکو انسیڈینٹل چارجز کے طور پر 2.745 ارب روپے کی ادائیگی کی بھی منظوری دی، یہ ادائیگی وفاق اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے 50، 50 کی شرح سے کی جائے گی۔ 2 اکتوبر 2019ء کے اجلاس میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو اڑھائی لاکھ ٹن گندم دینے کی منظوری بھی دی۔ اس میں سے ایک لاکھ ٹن سندھ اور ڈیڑھ لاکھ ٹن خیبرپختونخوا کے لئے منظور کی گئی تھی۔ اس کے پاسکو انسیڈینٹل چارجز بھی متعلقہ صوبوں اور وفاق میں 50، 50 کے تناسب سے تقسیم کئے گئے ہیں۔ ای سی سی کے اجلاس میں وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کی طرف سے بتایا گیا کہ پاسکو اور خوراک کے صوبائی محکموں نے رپورٹ دی ہے کہ ان کے پاس گندم کا 6.444 ملین ٹن کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ گزشتہ سال یہ ذخیرہ 10.093 ملین ٹن تھا تاہم اس حقیقت کے باوجود کہ گندم کی کل دستیابی کا تخمینہ 28.256 ملین ٹن لگایا گیا تھا جس میں 3.777 ملین ٹن کا پرانا ذخیرہ بھی شامل تھا جبکہ ملک میں گندم کی مطلوبہ ضرورت 26.91 ملین ٹن ہے لیکن مقامی منڈی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں چڑھائو کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ای سی سی نے میری ٹائم کی وزارت کی طرف سے واپڈا سے متعلقہ مختلف بقایاجات اور پاکستان سٹیٹ آئل کے پورٹ قاسم کو ادائیگیوں سے متعلقہ دو مختلف تجاویز پر بھی غور کیا اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے بقایاجات کے معاملے کے حل کے لئے وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ واپڈا نے اپنی 52 کنسائنمنٹس کی مد میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 1.076 ارب روپے دینے ہیں۔ واپڈا کی درخواست پر کے پی ٹی بورڈ نے موخر ادائیگیوں کی درخواست پر ان کا ساز و سامان کلیئر کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے بھی اس کی منظوری دی تھی۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ واپڈا نے 1.41 ارب روپے میں سے صرف 334 ملین کی ادائیگی کی ہے جبکہ 1.076 ارب کی ادائیگی باقی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو پاکستان سٹیٹ آئل کی طرف سے درآمد کی گئی ایل این جی کی مد میں وارفج چارجز کی مد میں 1.696 ارب کی ادائیگی کرنی ہے۔ وزارت میری ٹائم افیئرز کی وزارت نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے درخواست کی کہ واپڈا اور پٹرولیم ڈویژن کو پورٹ قاسم کی ادائیگیوں کی ہدایت کی جائے۔ ای سی سی نے اس معاملے پر بھی اقتصادی امور کے وفاقی وزیر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی جو معاملے کا جائزہ لے کر دو ہفتوں کے اندر اس کے حل کے لئے تجویز دے گی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کو 706.050 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے اجراء کی تجویز کی بھی منظوری دیدی۔ اس میں 650.426 ملین موجودہ اور 55.624 ملین روپے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن نے خصوصی تعلیم و سماجی بہبود سے متعلقہ 706.050 کے فنڈز واپس کئے گئے تھے۔ ای سی سی نے وزارت داخلہ کی طرف سے 100 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ اس میں 43 ملین ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 57 ملین روپے اسلام آباد انتظامیہ کے مختلف شعبوں کی بہتری اور آپریٹنگ کے اخراجات ہیں۔ وزیراعظم نے 10 جون 2019ء کو جنگلات، فوڈ اتھارٹی ری کلیمیشن اینڈ پروبیشن اور اسلام آباد میں مناسب کو آپریٹو سوسائٹی سمیت مختلف شعبوں کے قیام کے لئے سمری کی منظوری دی تھی۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وزیراعظم کی منظور کی گئی سمری پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے محصولات کو پہلے ہی بہتر بنایا ہے اور سمری کے مطابق 125 نئی آسامیوں پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ ای سی سی نے حبیب اللہ کوسٹل پاور کمپنی کو گیس کی فراہمی سے متعلق معاملے پر غور کرتے ہوئے تین سے چھ ماہ کے عبوری عرصہ کے لئے گیس کی سپلائی کے لئے پٹرولیم ڈویژن کی تجویز کی منظوری دیدی۔ یہ منظوری بعض شرائط کے ساتھ دی گئی ہے۔ قبل ازیں وزارت توانائی نے ای سی سی کو بتایا کہ گیس اور آر ایل این جی کی سپلائی کے معاملے پر فریقین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی ہے اور پٹرولیم ڈویژن کی رائے ہے کہ ایچ سی پی سی کو گیس کی سپلائی کی طویل المدت بنیادوں پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔ای سی سی نے وزارت توانائی کی طرف سے چھبارو سے 8 ایم ایم سی یف ڈی اور گندھانواری سے 10 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک گیس میسرز ایس ایس جی سی ایل کو پٹرولیم پالیسی کے مطابق گیس کی قیمت کے ساتھ مختص کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ قبل ازیں ای سی سی کو بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل نے خیرپور ضلع میں واقعہ دونوں گیس فیلڈز سے گیس دیئے جانے کی درخواست کی ہے۔ ای سی سی نے ”کم ادائیگی کے ساتھ زیادہ بجلی استعمال کرنے” کے یکساں سینزل پرائسنگ سٹرکچر کی بنیاد پر وزارت توانائی کی ایک اور تجویز کی منظوری دیدی۔ اس کا اطلاق نومبر 2019ء سے فروری 2020ء کے دوران چار ماہ کے عرصہ کے لئے ہو گا۔ اس کے تحت 11.9 روپے فی یونٹ کی شرح سے مخصوص صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ اس پالیسی کا مقصد موسم سرما کے دوران اضافی بجلی کے استعمال کے لئے کیا گیا ہے۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ مختلف ملکوں میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں اور اس طرح چارہ ماہ میں 24 ارب روپے تک کی اضافی بجلی کے استعمال کا امکان ہے۔ وزارت توانائی کی ہی ایک اور تجویز پر ای سی سی نے سی ٹی بی سی ایم کو کمپی ٹیٹیو مارکیٹ آپریشنز/کمرشل آپریشنز شروع کرنے کے لئے مزید ڈیڑھ سال کا وقت دیدیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں نیپرا کو منصوبہ فراہم کیا جا چکا ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد دسمبر 2019ء تک منظوری ملنے کا امکان ہے۔
atr/ads/zhm-nmq 2123









