اسلام آباد/لاہور ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرتارپور خیر سگالی کا پیغام ہے، وزیراعظم عمران خان 9 تاریخ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، پاکستان میں کوئی مسجد جانا چاہئے یا مندر، ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے، کشمیر پر ہمارا مؤقف اصولی ہے، ہم بات چیت سے اسے حل کرنا چاہتے تھے مگر ہندوستان کتراتا رہا ۔ …
کرتارپور خیر سگالی کا پیغام ہے، وزیراعظم عمران خان 9 تاریخ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
اسلام آباد/لاہور ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرتارپور خیر سگالی کا پیغام ہے، وزیراعظم عمران خان 9 تاریخ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، پاکستان میں کوئی مسجد جانا چاہئے یا مندر، ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے، کشمیر پر ہمارا مؤقف اصولی ہے، ہم بات چیت سے اسے حل کرنا چاہتے تھے مگر ہندوستان کتراتا رہا ۔ جمعرات کو گورنر ہاؤس پنجاب لاہور میں تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے رحیم یار خان میں پیش آنے والے ٹرین کے دلخراش واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم صادر کر دیا ہے، انشاء اللہ تحقیقات ہوں گی اور حقائق سامنے آئیں گے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارا میڈیا کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کر رہا تھا لیکن آج ہندوستان بہت خوش ہے کہ میڈیا کی توجہ کشمیر سے ہٹ رہی ہے اس میں اس کارروان کا بھی نمایاں کردار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے دھرنے سے پہلے گھروں میں چھاپے نہیں پڑے تھے، خواتین کی بے حرمتی نہیں ہوئی تھی لیکن ہمارا رویہ جمہوری ہے۔ ہمیں امید ہے وہ بھی اپنے معاہدے کی پاسداری کریں گے اور میں توقع کرتا ہوں کہ ان کا رویہ بھی جمہوری ہو گا۔ ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کرتارپور واضح اور خیر سگالی کا پیغام ہے، 9 تاریخ کو وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، آپ دنیا میں کہیں چلے جائیں سکھ کمیونٹی انتہائی خوش نظر آتی ہے، تقسیم کی تلخی پر کرتارپور راہداری نے زخمیوں پر مرحم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایف ڈبلیو او کو خراج تحسین پیش کروں گا کہ انہوں نے دن رات ایک کرکے راہداری کی تعمیر مکمل کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے ہاں کوئی مسجد جانا چاہئے یا مندر ہر ایک کو مذہبی آزادی ہے جبکہ ہندوستان میں کیا سلوک کیا جا رہا ہے ان کا جمہوریت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ہمارا مؤقف اصولی ہے، ہم بات چیت سے اسے حل کرنا چاہتے تھے مگر ہندوستان کتراتا رہا اور بعض اطراف سے ثالثی کی پیشکش بھی ہوئی مگر ہندوستان نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی۔ آج مسئلہ کشمیر بین الاقوامی اہمیت اختیار کر چکا ہے میڈیا پر لکھا جا رہا ہے ڈاکومنٹرییز بن رہی ہیں، لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، سکول دفاتر بند ہیں، اب ہندوستان اپنی مرضی کے لوگوں کو ساتھ لے جا کر تاثر دینے کی کوشش کی لیکن یورپی یونین کے اپنے نمائندوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہمارے ساتھ مل کر مشاورت سے چل رہے ہیں، وہ کشمیری ہیں ہم وزارت خارجہ کی طرف سے ان کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ملکی صورتحال کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں بگڑی ہوئی اکانومی ملی تھی تمام انڈیکیٹرز منفی رحجان ظاہر کر رہے تھے اب جا کر ہماری اکانومی میں استحکام آ رہا ہے اسی سے اعتماد آئے گا، اسی سے ترقی کا پہیہ آگے چلے گا، ہمیں حقائق کو پیش نظر رکھنا چاہئے، ہمیں پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہے، ابھی ایک سال ہوا ہے اب تھوڑا انتظار کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو سندھ میں ان کی کارکردگی کی وجہ سے شدید سیاسی خطرات لاحق ہیں، من موہن سنگھ صاحب کو دعوت دی ہے اور انہوں نے قبول کی ہے مگر وہ ایک عام یاتری کے طور پر آنا چاہتے ہیں۔









