اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا ایک اہم ستون ہے، اپوزیشن سی پیک پر واویلا کر رہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک کی رفتار کو آہستہ نہیں کیا، ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا، …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار کی وفاقی وزراءشیخ رشید احمد، عمر ایوب اور معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا ایک اہم ستون ہے، اپوزیشن سی پیک پر واویلا کر رہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک کی رفتار کو آہستہ نہیں کیا، ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا، گوادر ایئرپورٹ پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی، 8 ویں جے سی سی اجلاس میں خصوصی اقتصادی زونز پر کام کی رفتار تیز کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پلاننگ کمیشن میں وفاقی وزراءشیخ رشید احمد، عمر ایوب اور معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو بہتر کرے گا اور اس سے پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا، ایم ایل ون منصوبے میں دونوں اطراف باڑ، فلائی اوورز اور انڈر پاسز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے کوئٹہ تک روٹ مکمل کریں گے، سی پیک کا مغربی روٹ اسلام آباد سے کوئٹہ آئندہ تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین صنعتی اشتراک کے لئے فورم بنایا گیا ہے جو جلد کام شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جس سے گوادر ایک جدید شہر بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ پر بھی کام تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فریم ورک کے تحت سندھ اور پنجاب کے مجوزہ منصوبوں کو آئندہ جے سی سی میں شامل کیا جائے گا، کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر زور دیا جا رہا ہے، سماجی و معاشی فریم ورک کے تحت ملک بھر میں فلاحی نوعیت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 9 ویں جے سی سی کا اجلاس 6 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد کیا جا رہا ہے جے سی سی اجلاس میں سی پیک فریم ورک منصوبوں کے تحت معاشی استحکام پر مبنی منصوبوں کی سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لئے سندھ سے اہم ترین منصوبے ریلوے کا ایم ایل ون میں پیش رفت ہو رہی ہے، حکومت پاکستان ریلوے کے پرانے فرسودہ نظام کو تبدیل کر رہی ہے، نئی صدی کے ساتھ ریلوے کو منسلک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں 300 میگاواٹ کا منصوبہ مکمل ہونے کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ زراعت پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ 9 ارب ڈالر کا ہے اور پاکستان سٹیل ملز کی ازسر نو بحالی پر بھی پیش رفت کرنے جا رہے ہیں۔









