اسلام آباد ۔ 02 نومبر (اے پی پی)مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے تناظر میں حکومتی رہنما بھی میدان میںآ گئے۔امورکشمیر وگلگت بلتستان کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمن کے حلقہ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا کے حلقے میں دوگنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کروں گا۔ جتنے افراد ملک کی …
وفاقی وزیرامورکشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کامولانا فضل الرحمن کے حلقہ میں جلسہ کرنے کا اعلان
اسلام آباد ۔ 02 نومبر (اے پی پی)مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے تناظر میں حکومتی رہنما بھی میدان میںآ گئے۔امورکشمیر وگلگت بلتستان کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمن کے حلقہ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا کے حلقے میں دوگنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کروں گا۔ جتنے افراد ملک کی ساری پارٹیاں مل کر بھی نہ لا سکیں اس سے زیادہ میرے جلسے میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنی نشست ہار گیا ہو وہ کس منہ سے وزیراعظم کا استعفی مانگ رہا ہے؟۔ وفاقی وزیر نے مولانا کو ایک بار پھر انتخابی میدان میں اترنے کا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا تیار ہوں تو میں اپنی جیتی ہوئی نشست چھوڑتا ہوں اور ان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ دوبارہ انتخابات جیت کر دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا چاہیں تو ہر پولنگ اسٹیشن میں کیمرے لگا کر انتخابات میں میرا مقابلہ کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اداروں پر تنقید بند کریں اور اگر ہمت ہے تو میرا چیلنج قبول کریں۔ میں مولانا کو ایسی عبرتناک شکست دوں گا کہ وہ ساری زندگی یاد رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا دھرنے کے ساتھ ساتھ میرے بھیجے ہوئے نوٹس کا بھی جواب دیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا کی ہٹ دھرمی نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بھارتی میڈیا مولانا کے احتجاج پر بغلیں بجارہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے دن رات عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے۔ مولانا کا مارچ کشمیری عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔









