وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 03 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے الٹی میٹم واپس لینے پر خوشی ہے اورڈی چوک جانے اور وزیر اعظم کی ایگزیکٹو حیثیت کو چیلنج کرنے سے پیچھے ہٹنے کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں،گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد میں تھیٹر چل رہا ہے، مولانا فضل …

اسلام آباد ۔ 03 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے الٹی میٹم واپس لینے پر خوشی ہے اورڈی چوک جانے اور وزیر اعظم کی ایگزیکٹو حیثیت کو چیلنج کرنے سے پیچھے ہٹنے کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں،گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد میں تھیٹر چل رہا ہے، مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز کو ہوا ،اسلام آباد کے شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہوئے، بچے سکول نہیں جا سکے، ہم جمہوری لوگ ہیں، انتشار اور للکارنے کے بجائے جمہوری انداز میں مسائل پیش کرنے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کرنے اور پہلی مرتبہ عزائم معلوم ہونے کے باوجود مارچ کے شرکاء کو جمہوری حق کے استعمال کی بھرپور اجازت اور شرکاء کو ہر ممکن سہولت دی، وزیر اعظم پر ذاتی حملے کئے گئے لیکن وزیر اعظم نے مذاکرات کے لئے کمیٹی بنائی ، مذاکرات کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، الیکٹورل ریفارمز ہوں یا اکنامک ریفارمز ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں، ربیع الاول کا مہینہ بھائی چارے کا مہینہ ہے، مولانا فضل الرحمان سے اپیل ہے کہ مارچ کو محفل میلاد میں تبدیل کر دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پی آئی ڈی میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے الٹی میٹم واپس لینے پر خوشی ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا کہ جس طرح سے مذہبی لبادہ اوڑھ کرللکارا جا رہا تھااور بہتان تراشی کی جا رہی تھی لیکن اس کے بوجود ہم نے جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں اسلام آباد آزادی مارچ کی اجازت دی اور انہیں جی آیاں نوں کہا۔ پہلی مرتبہ مارچ شروع ہونے سے پہلے بھی ان سے بات چیت کی گئی کہ وہ کس مقصد کے لئے آنا چاہتے ہی۔ پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے اپنے اس سیاسی مخالف کو جس کا مقصد وزیر اعظم سے حسد بغض اور عداوت پر مبنی بیانیہ تھا اور جو شخص شائستگی کی تمام حدیں پھلانگتا ہے اور خود کو عالم دین بھی کہتا ہے اور ایسی ایسی بہتان تراشی کرتا ہے، اس سے بھی مذاکرات کے لئے وزیر اعظم نے کمیٹی بنائی اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے شرکاء سے بچوں کے جھولے بھی محفوظ نہ رہے، مارچ کے شرکاء کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے، مذہبی کارڈ کو عوام کو گمراہ کرنے کیلئے استعمال کیا اور اسلام آباد میں پڑائو کیا، پاکستان کی عوام کو استعمال کرنے کی مولانا فضل الرحمان کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ مولانا کے دھرنے سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز کو ہوا ہے، مولانا کے مارچ سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے بچے خوفزدہ ہیں اور آپ کے بیانیے میں کچھ اور مہک آ رہی ہے، اس مارچ سے پاکستان کا چمکتا چہرہ داغ دار ہوا ہے، زبردستی اکثریتی سوچ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تصادم اورانتشار سے ریاست کو یرغمال نہیں بننے دیں گے، مولانا معاہدے پر عمل درآمد کریں گے اور ہائیکورٹ اور آئین و قانون کے فیصلے کے مطابق چلیں گے توحکومت ہر مسئلے پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور معاشرہ الزام تراشیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بہتان اور الزام تراشی کرنے والے کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مکمل اختیار دیا گیا ہے، مذاکرات کے دروازے کبھی بھی سیاسی جماعتوں پر بند نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم جمہوری انداز سے جائز جمہوری مطالبات پر بات چیت کرنے اور مل بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن مذاکرات کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، الیکٹورل ریفارمز ہوں یا اکنامک ریفارمز ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں،کسی سے اختلاف کرنا اس کا بنیادی حق ہے، سیاسی طور پر ایک دوسرے سے اختلافات ہو سکتے ہیں،سیاست میں اختلافات رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہے، بہتر ہوتی ہوئی معشیت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کا مہینہ بھائی چارے کا مہینہ ہے، مولانا فضل الرحمان سے اپیل ہے کہ مارچ کو محفل میلاد میں تبدیل کر دیں، اس مبارک ماہ میں ہمیں انتشار سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی 15 سیٹیں تحریک انصاف کی 156 سیٹوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، آپ الیکشن کو سلیکشن کہتے ہیں اور آپ کے اپنے نمائندے اسی پارلیمنٹ کی رکنیت کا حلف اٹھاتے ہیں اور سینیٹ الیکشن میں بھی حصہ لیتے ہیں، جس اجتماع کے لئے آپ نے پانچ دن لگائے وزیر اعظم کے اشارے پر 5 گھنٹوں میںاس سے بڑا مجمع اکھٹا ہو سکتا ہے، امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان تصادم سے بچ کر مفاہمت کر راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہے اور ہماری فوج اور یہ ادارے ہمارے ادارے ہیں، آپ نے فوج کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جو قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے وطن کے دفاع کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے جو اپنی تقریر مین تاثر دیا ہے کہ وہ سیاست میں تشدد اور انتشار کے قائل نہیں ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بصد احترام گزارش ہے کہ مذہب کے تقدس کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، انہوں نے کہا کہ بطور قائد میں نے اگر عمران خان کا انتخاب کیا ہے تو وہ پیغمبر آخری الزمان ۖ سے ان کی محبت اور ریاست مدینہ کی جو بات وہ کرتے ہیں اور ہر محفل میں نبی کریم ۖ کا ذکر ضرور کرتے ہیں اس سے متاْثر ہو کر کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جس مدلل انداز میں امت مسلمہ کی ترجمانی کی اس سے پہلے کسی اسلامی رہنما کو تاریخ میں یہ توفیق نہیں ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ اسی عالمی فورم پر وزیر اعظم نے دو ٹوک انداز میں دنیا کو واضح کر دیا کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ روحانی اور دینی جذبات کو سیاسی نظر نہ کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے پاکستان کو اپنی مذہبی اور دینی اساس سے ہٹانے کی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، عمران خان کو پاکستان کو اس کی اساس کی جانب لانے اور قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں۔ عمران خان ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہو۔12 ربیع الاول کو انٹرنیشنل رحمت للعالمین ۖ کانفرنس ہوگی جس میں جامعہ الازہر کے مفتی اعظم، مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر عراق، عمان، اردن، تیونس، مصر سے مذہبی سکالرز شرکت کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی اس میں شرکت کی دعوت میں خود دوں گا۔
tmc/ads/rhn 0156