حکومت اور مظاہرین کے مابین کسی بھی تصادم کی صورت میں ملک کی ترقی کا عمل متاثر ہوگا، شہریار خان آفریدی

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت انسداد و منشیات و سیفران شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت پوری صورتحال کا صبر و تحمل سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حکومت اور احتجاجی مظاہرین کے مابین کسی بھی طرح کا تصادم نہ ہو کیونکہ اس سے ملک کی ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔ نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا …

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت انسداد و منشیات و سیفران شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت پوری صورتحال کا صبر و تحمل سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حکومت اور احتجاجی مظاہرین کے مابین کسی بھی طرح کا تصادم نہ ہو کیونکہ اس سے ملک کی ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔ نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن دھرنے کے شرکاء کے سامنے اپنی پارٹی کے ایجنڈے کا ذکر نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا ذاتی مفادات کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ہے، مولانا اور مشترکہ اپوزیشن کے پاس دھرنے کو طول دینے کیلئے صرف تین نکات ہیں، اول وہ پاکستان مخالف ذہنیت کی پیروی کرتے ہیں، دوم حزب اختلاف قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور سوم یہ کہ قوم کو کسی طرح قائل کر سکیں کہ حکومت ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے گذشتہ حکومتوں میں بھرپور مراعات حاصل کیں اور دہائیوں تک وزراء کی کالونی میں قیام پذیر رہے لیکن انہوں نے تنازعہ کشمیر اور کشمیر کی بیٹیوں کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بجائے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کی ویڈیو کلپس دیکھ کر تمام سمجھدار افراد اندازہ لگاسکتے ہیں کہ انہیں کبھی بھی بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا گیا اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے ان معصوم شہریوں کیلئے تفریحی مقامات کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں کیا۔