معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے، طاہرمحمود اشرفی

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) چیئرمین پاکستان علماء کونسل اورصدر وفاق المساجد والمدارس پاکستان حافظ محمد طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ سکھ برادری کے لیے سہولتوں کی فراہمی حکومت کا اچھا اقدام ہے، بین المسالک ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے ،دھرنوں اور جتھوں سے وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں آتا،معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے ۔منگل کو جاری بیان میں طاہر …

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) چیئرمین پاکستان علماء کونسل اورصدر وفاق المساجد والمدارس پاکستان حافظ محمد طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ سکھ برادری کے لیے سہولتوں کی فراہمی حکومت کا اچھا اقدام ہے، بین المسالک ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے ،دھرنوں اور جتھوں سے وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں آتا،معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے ۔منگل کو جاری بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ سیاسی اور مذہبی مسائل میں انتہا پسندی کسی بھی طور پر درست نہیںہے،دھرنوں اور جتھوں سے وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں آتا، حکومت اور حزب اختلاف کو مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سکھ یاتریوں کی مذہبی رسومات کے لیے ہزاروں کی تعداد میںپاکستان آمد اور آزادانہ طور پر اپنے روحانی پیشوا بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت اس بات کی منہ بولتی دلیل کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل سکھ برادری کو خوش آمدید کہتی ہے انتہا و شدت پسندانہ سوچ بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام اور معاشروںکے درمیان اخوت و رواداری کے لیے بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اقوام عالم کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ مذاہب کے درمیان روداری ، ہم آہنگی اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شروع سے یہ بات کہہ رہے تھے کہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر جن چیلنجز کا سامنا ہے ان کا تقاضا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست سے گریز کیا جائے اور تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔