اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، معاشرے کی تشکیل کیلئے خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہمارا مذہب خواتین کو حقوق اور تحفظ کے ساتھ ساتھ عزت و تکریم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بچیوں کیلئے حصول تعلیم کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج …
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں معاشرے میں خواتین کے کردار کے موضوع پر تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، معاشرے کی تشکیل کیلئے خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہمارا مذہب خواتین کو حقوق اور تحفظ کے ساتھ ساتھ عزت و تکریم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بچیوں کیلئے حصول تعلیم کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے اس لئے ایک مثالی معاشرے کی تشکیل بچیوں کی بہترین تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کے زیر اہتمام معاشرے میں خواتین کے کردار کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پاکستان اور افغانستان سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈپٹی سپیکر نے امن کیلئے خواتین کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لئے خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس بات کی ضمانت ہے کہ خواتین جب امن کے عمل میں شراکت دار بنتی ہیں تو وہ نا صرف خواتین کے حقوق اور شخصی آزادیوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ وہ معاشرے کے تمام کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے ناسور کا شکار ہیں اور افغانستان میں ہونے والی جنگ کے اثرات برائے راست پاکستان پر پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ترقی کے لئے امن قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پر امن اور خوشحال افغانستان دیکھنا کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے ہونے والی عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کا امن افغانستان کے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ انہوں نے افغانستانی خواتین کے حوصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ کے دوران افغانی خواتین نے جس جرات اور بہادری سے دہشتگردی کا مقابلہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ سیاسی و اقتصادی شعبوں میں خواتین کی بھرپور شرکت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور سیاسی عمل میں ا±ن کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات ا±ٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین جو ہمارا دوست ملک ہے کی ترقی میں وہاں کی خواتین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ا±ن کے حل کے لئے دونوں اقوام میں قریبی رابطوں کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اقوام ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس ا±مید کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب ہماری خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کر کے دونوں ممالک کو ترقی کی نئی منازل سے ہم کنار کریں گی۔ انہوں نے اس کامیاب فیسٹیول کے انعقاد پر فیسٹیول کی منتظمین کو مبارکباد دی۔








