وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر کی وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود سے گفتگو

اسلام آباد ۔06 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملک میں اعلی تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں پر30 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں اعلی تعلیم کے ترقیاتی فنڈز کی …

اسلام آباد ۔06 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملک میں اعلی تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں پر30 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں اعلی تعلیم کے ترقیاتی فنڈز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب خان ، چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری اور دیگر اعلی عہدیداروں بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بتایا گیا کہ ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے عمل کو نئی شکل دی گئی ہے اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (پی اے او) کو زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں، اب تک وازرت منصوبہ بندی 29 ارب روپے میں سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو 11.4 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دے چکی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی کہ ایچ ای سی کو مختص کی گئی بقایا رقم بروقت جاری کی جائے تاکہ تعلیمی ادارے ان کو اپنے منصوبوں کے لئے استعمال کرسکیں۔ انہوں نے چیئرمین ایچ ای سی سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جاری کردہ فنڈز کو سمجھداری اور مؤثر طریقے سے خرچ کریں۔ ملاقات میں طلباء کے اندراج میں بہتری اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے سے متعلق وزارت تعلیم کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وزارت تعلیم ان منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لئے باضابطہ تجویز تیار کرے گی جس کو منصوبہ بندی کمیشن تجاویز کے ڈیزائن اور منظوری کے عمل میں آسانی فراہم کرے گا۔ وفاقی وزراء نے سائنس اور ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کی وزارتوں کے ساتھ نالج اکانومی کے منصوبوں کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔