چیئرمئن نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔06 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمئن جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلاامتیاز احتساب کیلئے پرعزم ہے، احتساب کرنا جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، نئی نسل ملک کو کرپشن فری بنانے کیلئے نیب کا ساتھ دے۔ ان خیالات کا …

اسلام آباد ۔06 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمئن جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلاامتیاز احتساب کیلئے پرعزم ہے، احتساب کرنا جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، نئی نسل ملک کو کرپشن فری بنانے کیلئے نیب کا ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرپشن کے سدباب میں نوجوانوں کے کردار کے عنوان سے فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ فاطمہ جناح یونیورسٹی راولپنڈی ملک کی بہترین درسگاہوں میں سے ایک ہے،کرپشن نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا، ملک 100 ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے کرپشن کے خلاف اقدامات کا آغاز کرکے اپنی منزل کا تعین کرلیا، نیب بلاامتیاز اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ محنت کر کے خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے، طالب علموں کا مستقبل روشن مستقبل ملک کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 328 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے جوکہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے کرپشن کے خلاف عوام میں شعور بیدار کر دیا ہے، ہم معاشرے میں تعمیری کردار کو فروغ دینا چاہتے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے بدعنوانی کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے ہائرایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں، ملک بھر میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 55 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، یہ انجمنیں ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی موجود ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک میں جنتی ترقی کرپشن نے کی ہے کسی اور شعبہ نے نہیں کی، یہ ایک کینسر بن چکی ہے، اس کی سرجری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب کسی لالچ، خوف اور دھمکی کے بغیر بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن نے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے، ہم کشکول اٹھانے کے بجائے معاشی طور پر خودکفیل ہوں تاکہ دنیا میں اپنا سر فخر سے بلند کر سکیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد اپنے خطاب میں دو خرابیوں کرپشن اور اقرباءپروری کی نشاندہی کی، ماضی میں ہم اس لعنت کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات نہیں کرسکے، کرپشن کا خاتمہ نیب کی پہلی اور آخری جستجو اور منزل ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب تنہا اس 70 سالہ پرانے مرض کی روک تھام نہیں کرسکتا، کرپشن کے خاتمے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، خوداحتسابی سے اس کا آغاز کرنا ہوگا، اگر ہم اس کا اعادہ کرلیں کہ خوداحتسابی کو اپنانا ہے تو اس سے بدعنوانی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کی حیثیت سے نیب میں اصلاحات کا عمل شروع کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، نیب میں بہترین افراد کو میرٹ پر تعینات کیا گیا ہے، نیب میں کوئی سفارش نہیں ہوتی، صرف قانون اور میرٹ پر عمل کیا جاتا ہے، اداروں میں سفارش اور اقرباءپروری کو نکال دیا جائے اور میرٹ کو فروغ دیا جائے تو ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان قائم و دائم رہے گا، نشیب و فراز کا سلسلہ چلتا رہے گا، میں چاہتا ہوں کہ ملک میں ایسا اجالا آجائے جو صرف ترقی کی بنیاد ہو۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی پاکستان کے سوا کسی اور کے ساتھ وفاداری نہیں، ہم اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جتنا احتساب موجودہ دور میں ہوا، گزشتہ 70 برس میں نہیں ہوا۔ میں ذاتی تشہیر نہیں چاہتا، صرف ملک کا قرض ادا کر رہا ہوں، ہماری عزت اور تشخص پاکستان سے وابستہ ہے، پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ملک کو سنواریں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے مالی حالات بہتر نہیں ہیں تاہم بہتری کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خوابوں کی تعبیر کیلئے کام، لگن اور سچائی سے محنت کرنا پڑتی ہے، ریاست مدینہ بھی ایک خواب کی تعبیر ہے، اس کیلئے محنت اور سچائی سے کام کرنا ہوگا پھر یہ منزل حاصل ہوسکتی ہے۔ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی، ریاست مدینہ میں کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں تھی بلکہ اس کا معیار صرف تقویٰ تھا، اس کی بنیاد قانون کی حکمرانی تھی۔ انہوں نے کہاکہ منزلیں ان کو ملتی ہیں جو مشکلات اور نشیب و فراز کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہیں، ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر کیلئے ہمیں ملکر کام کرنا ہوگا۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ انصاف کی فراہمی کیلئے قوانین پر بلاامتیاز عمل کرنا ناگزیر ہے، نیب فیس نہیں کیس دیکھنے پر یقین رکھتا ہے، نیب انسان دوست ادارہ ہے، نیب نے لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے اور آئندہ بھی رکھے گا، نیب ملک سے کرپشن کے خاتمے کا اعلیٰ ادارہ ہے، ہم اس حوالہ سے اپنا کردار دیانتدارانہ طریقے سے ادا کرر ہے ہیں۔ انہوں نے طلباءو طالبات پر زور دیا کہ وہ والدین اور اساتذہ کی خدمت کریں، انہیں ترقی اور کامیابی ملے گی، نیب نے ہمیشہ طلباءکو درپیش مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ معاشرے میں عدل سے وہ اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ سکتا، حضرت محمد نے فرمایا انہیں مبلغ کی بجائے معلم سمجھا جائے، اس سے بڑا اساتذہ کا مقام اور کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خوداحتسابی اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے اپنی کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ چند خاندان ملک کی دولت لوٹ کر اس کے مالک بن گئے، ایسا نہیں ہو سکتا، ان سے لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ ہر شام کو نیب پر تنقید کرتے ہیں اگر تنقید مثبت اور تعمیری ہو تو اچھی بات ہے۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ بزنس کمیونٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ ان سے ماضی میں زیادتی ہوئی اور نہ اب ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہاﺅسنگ سوسائیٹیوں میں لوگوں نے پلاٹوں کیلئے پیسے دیکر اپنی آنکھوں میں خواب سجائے جو پورے نہیں ہوئے، ان سوسائیٹیز والوں کا احتساب ہوگا، احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، ہمارا مشن صرف ملک کی بہتری ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 25 ماہ کے دوران 153 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جبکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران 71 ارب روپے وصول کر کے جمع کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ احتساب عدالتوں میں 943 ارب روپے کے 1261 بدعنوانی کے مقدمات زیرسماعت ہیں، ان مقدمات کی رقوم کی واپسی سے غریب لوگوں کو سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ کروڑوں روپے بجٹ کے باوجود کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں، اس کے بارے میں پوچھنا اگر جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نئی نسل سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، پاکستان ہمیشہ دنیا کے نقشے پر پر رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے کیونکہ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔