صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کاسال 2019ءمیں محتسبین کے نمٹائے گئے کیسز کے بارے میں ویڈیو پیغام

اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ صدارتی دفتر میں وفاقی محتسبین کے فیصلوں کے خلاف اپیل ایک دن کے اندر نمٹا دی جاتی ہے، سرکاری محکموںکے خلاف شکایات پر بلارکاوٹ اور جلد فیصلے کےلئے محتسب کے ادارے مکمل فعال ہیں، عوام متعلقہ محکموں سے دادرسی نہ ہونے کی صورت میں محتسبین سے رجوع کریں۔ منگل کو سال 2019ءمیں محتسبین …

اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ صدارتی دفتر میں وفاقی محتسبین کے فیصلوں کے خلاف اپیل ایک دن کے اندر نمٹا دی جاتی ہے، سرکاری محکموںکے خلاف شکایات پر بلارکاوٹ اور جلد فیصلے کےلئے محتسب کے ادارے مکمل فعال ہیں، عوام متعلقہ محکموں سے دادرسی نہ ہونے کی صورت میں محتسبین سے رجوع کریں۔ منگل کو سال 2019ءمیں محتسبین کے نمٹائے گئے کیسز کے بارے میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ صدارتی دفتر کے ماتحت پانچ ایسے اہم ادارے ہیں جن میں لوگوں کے مسائل پر تیزی سے فیصلے کئے جاتے ہیں، یہ ادارے وفاقی محتسبین کے ادارے ہیں جن میں وفاقی محتسب، ٹیکس محتسب، انشورنس محتسب، بنکنگ محتسب اور خواتین کے خلاف ہراسیت کے انسداد کا محتسب ادارہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں شکایت کےلئے کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہے، یہ ادارے سائلین کی خود مدد کرتے ہیں، وفاق کے سارے محکمے ان پانچ محتسبین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ میرے دفتر میں 600 سے زائد اپیلیں آئی ہیں جن پر بطور صدر ایک دن کے اندر فیصلہ کیا ہے، صدارتی دفتر میں کوئی اپیل ایک دن سے زیادہ نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ محتسبین کسی بھی شکایت پر 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، کسی ادارے کے خلاف بھی شکایت ہو اس پر محتسب کے ادارے میں کارروائی ہو گی۔ صدر مملکت نے نمٹائے گئے کیسز کے بارے میں بتایا کہ ان میں خواتین کو ہراساں کرنے ، بجلی کے کنکشن یا گیس کے کنکشن کےلئے رشوت لینے، اوور بلنگ اور اے ٹی ایم یا بینک سے وابستہ کسی دھوکہ دہی کے متعلق شکایات تھیں جن پر انصاف پر مبنی فیصلے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اتھارٹی دادرسی کےلئے تیار نہ ہو تو ایسی شکایات پر محتسبین فیصلے دیتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ وفاقی محتسبین کے پاس تقریباً لاکھ سے زیادہ کیسز آتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کو اس بارے میں معلومات نہیں کہ محتسب 60 دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں اور اگر ان کے فیصلے کے خلاف اپیل ہو تو مزید 25، 30 دن لگ سکتے ہیں۔ فیصلے پر اپیل صدر کے پاس آئے گی تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ پچھلے ایک سال کے دوران صدارتی دفتر میں کوئی فائل ایک دن سے زیادہ نہیں رہی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محتسب کا ادارہ جلد اور بلارکاوٹ انصاف کی فراہمی کا بڑا اچھا ادارہ ہے، وفاقی اداروں کے خلاف کوئی بھی شکایت ہو اس پر یہاں بغیر وکیل کے انصاف دیا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سرکاری ادارے محتسبین کے فیصلوں پر عمدرآمد کے پابند ہیں۔

مزید خبریں