خون ریزی نہیں، صرف اخوت، حضرت محمد ﷺ کی فتحِ مکہ نے انسانیت میں انقلاب برپا کر دیا

"ربیع الاول کا مہینہ پوری مسلم دنیا کے لیے دلی خوشی کا موقع ہے، جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت اور حیاتِ مبارکہ کا جشن منایا جاتا ہے۔”

پشاور۔ 22 اگست (اے پی پی):ربیع الاول کا مہینہ پوری مسلم دنیا کے لیے دلی خوشی کا موقع ہے جس میں تمام عرب قبائل کو ایک دین کے تحت متحد کرنے والے اور فتحِ مکہ کے بعد تمام حریفوں کو معاف کر دینے والے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کےیومِ ولادت با سعادت اور حیاتِ مبارکہ کا جشن منایا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کےلیے تمام اقوام کےلیے انبیاء کرام مبعوث کئے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک ہر نبی نے الٰہی احکام کے مطابق معاشروں کی تعلیم، رہنمائی اور اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔ نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی آمد نے اس الٰہی رہنمائی کی تکمیل کی۔ آپ متحد کرنے والا پیغام لائے۔شیخ زاید اسلامک سینٹر پشاور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد نے قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کے طور پر بھیجا گیا جنہوں نے جزیرہ عرب کے متنوع اور اکثر دست و گریبان قبائل کو ایک دین کے تحت متحد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جزیرہ عرب کے جنگجو قبائل کا یہ اتحاد صرف سیاسی طاقت کا استحکام نہیں تھا بلکہ روحانی، معاشی اور سماجی نظام میں ایک گہرا انقلاب تھا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء و مرسلین بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام سے آگاہ کریں اور اس دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات، رنگ اور قومیت کی تفریق کے بغیر انسانیت پر بے شمار فضل و کرم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی تعلیم، اصلاح اور رہنمائی کے لیے کم و بیش 124000 انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے تاکہ وہ ایک خوشحال، پرمسرت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انبیاء کرام کی آمد کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا جنہوں نے جزیرہ عرب کے تمام جنگجو قبائل کو متحد کیا جہاں سے اسلام کی شعاعیں برصغیر سمیت پوری دنیا میں پھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کئی صدیوں سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کا انتظار کر رہی تھی اور یہ طویل انتظار نبی کریم ﷺ کی آمد کے ساتھ ختم ہوا جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے آخری نبی بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ کے بعد اس دنیا کے خاتمے تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی شریعت کو اللہ کا آخری پیغام قرار دیا گیا، تمام پچھلی شریعتیں منسوخ کر دی گئیں اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو سب کے لیے کافی قرار دیا گیا۔تمام مشکلات اور مصائب کے باوجود نبی کریم ﷺ نے مکہ میں قرآن مجید کی تبلیغ جاری رکھی اور بعد میں اسلام کی سربلندی کی خاطر مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ بے شک، نبی کریم ﷺ کی زندگی ایک ایماندار، رحمدل، سچے، غمخوار اور عظیم سالار کا بہترین اسوہ حسنہ تھی جنہوں نے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات پر امن اور رحمت کی بارش کی۔ قرآن مجید میں آپﷺ کو رحمت اللعالمین کہا گیا۔ آپ ﷺ کی امن پسندی، مہربانی، رحم دلی، سخاوت، عاجزی کی صفات، اور یتیموں، بیواؤں اور غریبوں کی بہبود پر خصوصی توجہ اور دیگر ادیان کے لوگوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کے احترام نے جزیرہ عرب میں ہر ایک کے دل کو چھو لیا اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ اس دنیا کے خاتمے تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ غیر مسلموں نے بھی آپ ﷺ کی بے حد تعریف کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب "تاریخ کی 100 سب سے بااثر شخصیات” میں کہا کہ حضرت محمد ﷺ دنیا کی تاریخ کے سب سے بااثر رہنماؤں کی فہرست میں سرِفہرست ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی تعلیمات نے تمام لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے عرب کے جنگجو قبائل کو، جو معمولی تنازعات پر لڑتے تھے، دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں ایک طاقتور اور مہذب قوم میں متحد کرنے پر نبی کریم ﷺ کی تعریف کی ہے جس قوم نے بعد میں پوری دنیا پر حکومت کی اور ہر طرف اسلام کی شعاعیں پھیلائیں۔ مشہور مصنف ڈاکٹر گسٹاو ویل نے اپنی مشہور کتاب ’’ہسٹری آف اسلامک پیپلز‘‘ میں کہا کہ نبی کریم ﷺ ہر دور کے لوگوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں اور آپ کا کردار پاکیزہ، رحمدل اور سب کے لیے قابلِ قبول ہے۔ فتحِ مکہ کے تاریخی واقعے نے ایک واضح سبق دیا ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کےلیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے مسلسل صحیح سمت میں بڑھتے رہنا چاہیے، اللہ کی مدد پر یقین رکھنا چاہیے اور رواداری، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور معافی کو فروغ دینا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) نے بغیر کسی مزاحمت کے مکہ کو فتح کیا اور اس شہر کو اسلام کے مقدس ترین مقام میں بدل دیا جہاں مسلمان ہر سال حج اور عمرہ کےلیے آتے ہیں اور رحم و مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ رحم، اتحاد اور حکمتِ عملی پر مبنی قیادت کی ایک عظیم مثال قائم کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ 10000 کے لشکر کے ساتھ مقدس شہر مکہ میں داخل ہوئے، انتقام چاہنے والے فاتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک امن قائم کرنے والے کے طور پر جس نے اسلامی اور عرب تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ فتحِ مکہ نے اسلام کے پھیلاؤ میں ایک اہم موڑ قائم کیا جس نے جزیرہ عرب میں نبی کریم ﷺ کے اثر و رسوخ کو مضبوط کیا اور اربوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت انقلاب برپا کیا۔ ڈاکٹر رشید احمد نے کہا کہ جو فتح خونریز ہو سکتی تھی وہ معافی اور رحم دلی کے ایک تاریخی واقعے میں بدل گئی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا اور ان لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے کبھی آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو ستایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک قریش کا قبیلہ جو خانہ کعبہ کا پاسبان اور مکہ کا اشرافیہ طبقہ تھا، نبی کریم ﷺ کے پیغام کی مخالفت کرتا رہا۔ابتداء میں مسلمانوں کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ بدر، احد اور خندق کی غزوات سمیت مختلف معرکوں کے باوجود مکہ اور مدینہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ انہوں نے کہا کہ ۶۲۸ عیسوی میں صلح حدیبیہ کے ذریعے جو نازک امن قائم ہوا تھا، وہ اس وقت پاش پاش ہو گیا جب قریش کے اتحادیوں نے مسلمانوں کے ایک اتحادی قبیلے پر حملہ کر دیا۔ معاہدے کی یہ خلاف ورزی کارروائی اور فتحِ مکہ کا سبب بنی۔ جب اسلامی لشکر مکہ کے قریب پہنچا، نبی کریم ﷺ نے غیر ضروری تصادم سے بچنے کے لیے اقدامات کیے۔شہر کے مضافات میں ہزاروں آتش دان روشن کیے گئے جو صرف ایک نفسیاتی حکمتِ عملی تھی تاکہ امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر نبی کریم ﷺ تقریباً بلا مخالفت مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ کا پہلا کام خانہ کعبہ میں جانا، وہاں رکھے گئے بتوں کو ہٹانا اور اسے عبادت کے مقدس مقام کے طور پر بحال کرنا تھا اور تمام حریفوں کو معاف کر دینا تھا۔ یہ ایک نہایت گہرے اثرات کا حامل لمحہ تھا جس نے دلوں کو جیت لیا اور جزیرہ عرب میں مصالحت اور پرامن انقلاب کی بنیاد رکھی۔ مکہ کے مسلمانوں کے کنٹرول میں آنے کے بعد یہ شہر اسلام کا روحانی مرکز بن گیا۔ قریش جو اسلام کے دیرینہ مخالف تھے، نے اسلام قبول کر لیا۔ بدلے اور انتقام کے بجائے معافی اور رحم دلی کی نبوی پالیسی نے قبائلی سیاست کو بدل دیا اور عرب معاشرے میں امن قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ تمام جنگوں میں، اللہ کے آخری نبی نے خود آگے بڑھ کر قیادت کی۔اللہ کے آخری رسول نے ہمیں مساوات، انسانیت اور خواتین کے حقوق سکھائے۔ آپ نے پیروکاروں کو سماجی زندگی میں احترام اور خاندانی معاملات میں سادگی کی اہمیت دکھائی۔بآپ کے خطبہ حجة الوداع نے انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پورے ایجنڈے کو واضح طور پر بیان کیا۔ آخری خطبے میں نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے علاوہ کسی کو کسی پر کسی بھی بنیاد پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے توحید کا تصور دیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان اسلامی عقیدے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور صرف ریاست کو جہاد کے اعلان کا اختیار حاصل ہے۔ کسی شخص کو قتل کرنا اور کسی کی جائیداد پر زبردستی قبضہ کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایسے منفی افعال کو حرام قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ نے انسانی زندگیوں کے احترام کی بھی تاکید کی اور اعلان فرمایا کہ کسی ایک فرد کی جان کی حفاظت پوری انسانیت کی حفاظت کے مترادف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عدل، مساوات، خواتین کے مساوی سماجی و معاشی حقوق پر زور دیا اور نسلی برتری کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ ڈاکٹر رشید احمد نے کہا کہ اس دنیا اور آخرت میں کامیابی صرف اور صرف قرآن مجید کی تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر سختی سے عمل پیرا ہونے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کو درپیش تمام چیلنجز سے قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ پر سختی سے عمل کر کے نمٹا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر رشید احمد نے کہا کہ فتحِ مکہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ ایک اخلاقی اور روحانی فتح تھی۔ اس نے عدل، شفقت اور ضبطِ نفس کی اقدار کا مظاہرہ کیا۔ آج بھی فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ ہے۔ قیادت، حکمتِ عملی اور رحم دلی سے متعلق اس کے اسباق رہنماؤں اور عام لوگوں دونوں کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔سزا دینے کے بجائے معاف کرنے کے نبی کریم ﷺ کے فیصلے کو مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں عالمگیر تاریخ کی ایک طاقتور اور انقلابی قیادت کی بہترین مثال کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔