اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سب لوگ باہر نکل آئیں، کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا اسلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ضروری …
وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سب لوگ باہر نکل آئیں، کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا اسلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوں جوں ٹیسٹنگ استعداد کار بڑھ رہی ہے متاثرین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، متاثرین کی تعداد بڑھی تو مسائل بڑھنے کا امکان ہے اسلئے عوام کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کے باوجود حکومت کی جانب سے وائرس سے بچاﺅ سے متعلق جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں، خود بھی وباءسے بچیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کے دوران سب سے زیادہ دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے، حکومت نے ملک کے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ کیا تاکہ معیشت کا پہیہ چلے اور لوگوں کو روزگار کمانے کے مواقع فراہم ہوں۔ علی محمد خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم اچھا اقدام تھا لیکن کورونا بحران کے دوران اس میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی اسلئے اس پر بات کرنا ضروری ہے، کورونا سے نجات پانے کے بعد اپوزیشن سے اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر اسے حل کیا جائے گا، فیصلہ وہی ہو گا جو پاکستان، عوام اور صوبائی اکائیوں کی مضبوطی کیلئے بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد تاحال صوبوں سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، زراعت، سیاحت اور پولیس سمیت دیگر کئی شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخواہ میں اپنے دور حکومت کے دوران صحت، تعلیم اور پولیس کے شعبے میں اصلاحات کی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں نے خوش ہو کر دوبارہ پی ٹی آئی پر اعتماد کیا اور ہم دوبارہ صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔








