50 ہزار میگاواٹ ہائیڈرو پاور کی استعداد، پن بجلی منصوبوں سے سستی بجلی ممکن ہے، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

سینیٹ کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر نسپاک کی جانب سےمختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ امجد حسین نے گلگت بلتستان میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے حوالے سے مواقعوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

گلگت۔ 02 ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر نسپاک کی جانب سےمختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ امجد حسین نے گلگت بلتستان میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے حوالے سے مواقعوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہماری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو۔ صوبائی حکومت اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ بونجی ڈیم سے 7ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ بھی گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے فزیبلٹیز موجود ہیں۔ اگر ہائیڈرو پر توجہ دی جائے تو ملک سے اندھیروں کا خاتمہ ہوگا اور خوشحالی کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ صوبائی حکومت میگاواٹ پروجیکٹس کی تعمیر کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ چلاس ایئرپورٹ کو فعال بنانے پر کام جاری ہے، ہماری ترجیح ہے کہ آئندہ 6ماہ میں چلاس ایئرپورٹ کو مکمل طور پر فعال بنایاجاسکے۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی، دفاعی اور سیاحت کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اور بین الاقوامی و مقامی سیاحوں کو جدید روڈ انفراسٹرکچر اور بجلی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن بدقسمتی سے ہنزل 20 میگاواٹ پاور پروجیکٹ اور 16میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ جیسے اہم منصوبوں مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بجلی کی سہولت میسر نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نسپاک کے اعلیٰ افسران کو 54 میگاواٹ عطاء آباد پاور پروجیکٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ اس اہم منصوبے پر جلد کام شروع کیا جاسکے۔

اس موقع پر سینیٹ کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے تجربوں کے بجائے ہمیں گلگت بلتستان میں موجود ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی ہماری سفارش ہوگی کہ گلگت بلتستان میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے تاکہ آئی پی پیز کے بجائے سستی بجلی پیدا کی جاسکے، ملک کی ضروریات پورے کرنے کے بعد دیگر ممالک کو بھی بجلی فروخت کرکے زرمبادلہ کمایا جاسکے۔ اس موقع پر سینیٹ کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے ممبران سینیٹر مولانا عطاء الرحمن بھی موجود تھے جبکہ سینیٹر عامر ولی الدین اور سینیٹر عبدالقادر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

مزید خبریں