توانائی کے ماہرین، حکومتی اداروں، صنعت اور تحقیق سے وابستہ نمائندوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی مسابقتی منڈی کا مکمل نظام نافذ کرنے سے پہلے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں بنیادی اصلاحات کرنا ضروری ہے
صنعتی صارفین کے منتقلی سے ڈسکوز کو مالی نقصان کا خدشہ، سولر اور بیٹری سٹوریج کو مارکیٹ کا حصہ بنایا جائے ۔ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):توانائی کے ماہرین، حکومتی اداروں، صنعت اور تحقیق سے وابستہ نمائندوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی مسابقتی منڈی کا مکمل نظام نافذ کرنے سے پہلے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں بنیادی اصلاحات کرنا ضروری ہے، اگر موجودہ مسائل حل کیے بغیر مارکیٹ کو کھولا گیا تو اس سے ڈسکوز کی آمدن، بجلی کے نظام اور عام صارفین پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن کے تحت منعقدہ ایک اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں انرجی ریگولیٹری سینڈ باکس کے تحت ’’ڈسکوز پر مسابقتی نیلامیوں کے اثرات اور مارکیٹ میں آزادی کے نتائج‘‘ کا جائزہ لیا گیا۔سابق منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ شاہ جہاں مرزا نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم بجلی کے شعبے میں اہم تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے دو اہم حصے ڈسکوز کی نجکاری اور بجلی کی مسابقتی منڈی کا قیام ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسابقت بڑھنے سے بجلی کی قیمت، معیار اور دستیابی میں بہتری آ سکتی ہے۔شاہ جہاں مرزا نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 200 میگاواٹ بجلی نظام کے نسبتاً مہنگے حصے سے حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے نصب سولر نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے بہتر انداز میں استعمال کیا جانا چاہئے۔
ایس ڈی پی آئی کے انرجی اکانومسٹ اور ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ سولر اور بیٹری سٹوریج سسٹم کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری، مارکیٹ میں مسابقت اور وہیلنگ کے نظام میں اصلاحات مستقبل کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ سولر اور بیٹری سٹوریج سے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو ورچوئل پاور پلانٹ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی بجلی صنعتی صارفین کو فروخت کر سکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صرف نجکاری کافی نہیں، بلکہ نئی ٹیکنالوجی اور جدت کو بھی مارکیٹ کا حصہ بنانا ہوگا۔سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی محمد ایوب نے کہا کہ مسابقتی بجلی منڈی کے لئے ضروری بنیادی نظام ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ڈسکوز کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر زیادہ بل دینے والے صنعتی صارفین دوسرے بجلی فراہم کرنے والوں کی طرف چلے گئے تو ڈسکوز کی آمدن کم ہو سکتی ہے اور موجودہ سبسڈی کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔سینڈ باکس رپورٹ ایس ڈی پی آئی کے محقق محمد عمر نے پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر پہلے مرحلے میں ملک کی پہلی 200 میگاواٹ وہیلنگ نیلامی شروع کر رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی پانچ سال تک کےلئے مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بجلی کے استعمال میں لیسکو کا حصہ تقریباً 33.6 فیصد ہے جبکہ صنعتی صارفین کی بڑی تعداد کے باعث فیسکو بھی نمایاں طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ ایک منظرنامے میں تمام ڈسکوز کو مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب روپے کے مالی نقصان کا اندازہ لگایا گیا۔محمد عمر نے تجویز دی کہ ڈسکوز کے لئے ورچوئل پاور پلانٹ پر مبنی آمدنی کا نیا نظام بنایا جائے اور نیلامی میں شرکت مرحلہ وار بڑھائی جائے۔ انہوں نے ایک اضافی مارکیٹ نظام کی تجویز بھی دی جس سے تقریباً 93 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ شرکا نے زور دیا کہ بجلی کی مسابقتی منڈی کا فائدہ صرف ڈسکوز یا بڑے صارفین تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ صنعت، دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے صارفین کو بھی اس منتقلی سے فائدہ ملنا چاہئے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ صنعت کو مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کئے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ شرکا نے سولر، بیٹری سٹوریج، وہیلنگ، ڈسکوز کی نجکاری اور مسابقتی مارکیٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھائے اور آخر میں سوال و جواب کے سیشن میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔







