وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت شاہرات، موٹر ویز، فلائی اوور اور پلوں کی تعمیر کے 57 میگا منصوبے شامل کئے ہیں جو ماضی کی حکومت کی طرح قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہوں گے، وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت شاہرات، موٹر ویز، فلائی اوور اور پلوں کی تعمیر کے 57 میگا منصوبے شامل کئے ہیں جو ماضی کی حکومت کی طرح قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہوں گے، سرکاری۔نجی شراکت داری کے تحت 1800 کلومیٹر …

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت شاہرات، موٹر ویز، فلائی اوور اور پلوں کی تعمیر کے 57 میگا منصوبے شامل کئے ہیں جو ماضی کی حکومت کی طرح قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہوں گے، سرکاری۔نجی شراکت داری کے تحت 1800 کلومیٹر نئی سڑکیں بنائیں گے، ہر منصوبہ لاگت اور شفافیت کے اعتبار سے ماضی کے منصوبوں سے سستا اور معیاری ہوگا، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق این ایچ کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ای گورننس اور ای بڈنگ کا نظام متعارف کرا دیا ہے، صرف 22 ماہ میں خود احتسابی کے عمل کے ذریعے 12 ارب روپے کی ریکوریاں کیں اور محصولات یں بھی 33 ارب کا اضافہ کیا ہے، سڑکیں بھی بنائیں گے اور احساس پروگرام کے تحت عوام کو ریلیف بھی دیں گے۔ اتوار کو این ایچ اے اور وزارت مواصلات کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ جب کابینہ کی تشکیل ہوئی اس وقت وزیر اعظم نے مختلف وزارتوں کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں اور کچھ اصول بھی وضع کئے تھے جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم نے وزارت مواصلات اور این ایچ اے کو ای گورننس اور ای بڈنگ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم احساس پروگرام کی بات کرتے ہیں تو کہتے تھے ہم سے سڑکیں بنائیں، ہم وزیر اعظم کے احساس پروگرام کے تحت غرب خاندانوں کے لئے 1200ارب کا ریلیف پیکج بھی دے رہے ہیں اور نئی سڑکیں بھی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں حکومت بنانے کے بعد ہم نے پچھلی حکومت کی نسبت 48 فیصد زائد منصوبوں کا اجراء کیا ہے لیکن یہ منصوبے ماضی کی طرح قومی خزانے پر بوجھ نہیں بلکہ سرکاری نجی شراکت داری کے تحت بنا رہے ہیں، انہوں نے کیہا کہ ای گورننس اور ای بڈنگ خود انحصاری کی جانب قدم ہے جو سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے کی مدد سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ وزارت سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے پاس رکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی ان کے دور اور ہمارے دور کی این ایچ اے کی کارکردگی کا دور دور تک کوئی موازنہ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت جو نئے منصوبے آئندہ مالی سال مین شروع کرنا ہیں ان میں سی پیک کے مغربی روٹ کے سندھ، بلوچستان اور کے پی کے منصوبے بھی شامل ہٰیں اورسیالکوٹ سے کھاریاں اور کھاریاں سے راولپنڈی تک کے جی ٹی روڈ کے ساتھ آبادی والے علاقوں کو بھی موٹر وے سے منسلک کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، بالکسر تا میانولی اور میانولی تا مظفر گڑھ جنوبی پنجاب کے اہم نوعیت کے منصوبوں پر بھی کام شروع کرنے جا رہے ہیں، شاہدرہ فلائی اوور بھی بنانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 ماہ میں این ایچ اے نے 11 ارب 90کروڑ کی وصولیاں بھی کیں اور محصولات میں بھی 33 سارب کا اضافہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہا رائٹ آف ویز جن کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا اب ان سے بھی محصولات حاصل کریں گے کلین گرین پاکستان کے تحت نیشنل بنک کے تعاون سے زیتوں کے درختوں کی شجر کاری قومی شاہرات اور موٹر ویزکے ساتھ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تھاکوٹ ۔ حویلیاں منصوبے پر بھی کام اسی سال شروع کرنے جا رہے ہیں، ہوشاب۔آواران، نوکنڈی ۔ زیارت ، لودھراں۔ ملتان اور سی پیک کے مغربی روٹ کے منصوبوں پر بھی کام کا اغاز کرنے جا رہے ہیں، سکھر۔ حیدرآباد موٹر وے ایم۔6کا ٹینڈر بھی اسی سال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی منصوبہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہوگا بلکہ سرکاری نجی شراکت داری سے تعمیر ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کوویڈ۔19 کی صورتحال کے پیش نظر شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں ہم نے ملکر کورونا کا مقابلہ کرنا ہے، این ایچ اے میں بھی کچھ کیسز سامنے آئے ہیں تاہم ہم سختی سے ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں۔