حکومت نے مشکل حالات میں عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا، نورین فاروق ابراہیم

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما نورین فاروق ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا ،ائندہ مالی سال کا ٹیکس فری بجٹ ہے،عوام کورونا کے حوالے سے ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ماضی کی حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کے سود کی …

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما نورین فاروق ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات میں عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا ،ائندہ مالی سال کا ٹیکس فری بجٹ ہے،عوام کورونا کے حوالے سے ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ماضی کی حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں قرضے واپس کر رہی ہے۔اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نورین فاروق ابراہیم نے کہا کہ پوری دنیا کو اس وقت کورونا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک بھی کورونا وائرس کی وباء کے خاتمے میں ناکام ہیں اور اس وباء کا ابھی تک علاج دریافت نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ دیا ہے اور آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری بجٹ دیا ہے عوام پر کسی قسم کے نئے ٹیکس عائد نہیں کئیے۔ نورین فاروق ابراہیم نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے لیکن حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کردیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو برقرار رکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے اپنی عیاشیوں کے لیے بھاری شرح سود پر قرضے لیے اب موجود حکومت ماضی کی حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کے صرف سود کی مد میں بننے والے قرضوں کو واپس کر رہی ہے جبکہ قرضوں کی اصل رقم جوں کی توں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 1240 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جن میں سے 630ارب روپے نئے منصوبوں کے لیے مختص کئیے گئے ہیں اور دارالحکومت میں صحت کے شعبے کے لیے 20 ارب روپے بھی مختص کیے ہیں۔کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے ملک عوام مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے شروع میں مارچ سے جو سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا اس سے کافی حد اس وباء کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی لیکن اس کے مکمل لاک ڈاؤن دوباہ لگانا اس لیے مشکل ہے کہ مزدور طبقے کے لیے کافی مشکل ہو جاتی ان کے گھر کے چولہے بند نہیں کرنے وزیراعظم نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل کریں اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا تو ذمہ دار خود عوام ہوں گے اور پھر مجبوراً لاک ڈاؤن کیا جائے گا اس کے علاؤہ کوئی اور حل نہیں ہے۔