سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی پاکستان کے افعانستان کےلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین مستحکم تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کےلئے ضروری ہیں، دوطرفہ پارلیمانی، تجارتی اور معاشی تعاون موجودہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے افعانستان کےلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے …

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین مستحکم تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کےلئے ضروری ہیں، دوطرفہ پارلیمانی، تجارتی اور معاشی تعاون موجودہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے افعانستان کےلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں ان سے ملاقات کی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان برادرانہ ہمسایہ ممالک ہیں جو مذہب، ثقافت اور تاریخ کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کو وسط ایشیاءکا ایک گیٹ وے قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوب کو وسطی ایشیاءسے ملانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سپیکر نے دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں اور کاروباری برادریوں کے مابین رابطے تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان وسطی ایشیاءکا گیٹ وے ہے لہٰذا معاشی سرگرمیوں میں باہمی تعاون سے دونوں ممالک میں خوشحالی آ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپس اور دونوں پارلیمانوں کی تجارتی و مالیاتی کمیٹیوں کے مابین دوطرفہ تعاون اور تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سپیکر نے دونوں اطراف کی تجارتی صلاحیت سے استفادہ کےلئے سرحدی منڈیوں کے قیام پر غور کرنے کی تجویز پیش کی۔ سفیر محمد صادق خان نے آگاہ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے برادرانہ تعلقات قدیم اور گہرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود مختاری اور علاقائی سالمیت کےلئے باہمی احترام کی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے جس کا صحیح استعمال نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ عوامی اور تجارتی شعبہ میں روابط استوا کرنے سے معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سپیکر کو طلبائ، تاجروں اور پاکستان آنے کے خواہشمند مریضوں کو ویزا کی سہولیات کی فراہمی کےلئے حکومت پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مستقبل میں بات چیت سے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔