اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں، عمران خان سے ٹرپل پلس این آر او مانگا جا رہا ہے، اے پی سی نہ پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، اپوزیشن کا ایجنڈا چور دروازے سے اقتدار کا حصول ہے، دنیا کا سب سے بڑاکھلاڑی ہمارا وزیراعظم ہے، اب …
تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں، وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بحال ہوئی، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں، عمران خان سے ٹرپل پلس این آر او مانگا جا رہا ہے، اے پی سی نہ پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، اپوزیشن کا ایجنڈا چور دروازے سے اقتدار کا حصول ہے، دنیا کا سب سے بڑاکھلاڑی ہمارا وزیراعظم ہے، اب ملک سے کوئی کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ مشیر پارلیمانی امور کے میڈیا آفس کے مطابق وہ چکری میں ایک استقبالیے سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ ایسے شخص کی حکمرانی ہے جس سے چھوٹے نہیں بڑے مافیاز ڈرتے ہیں۔ عمران خان کی وجہ سے دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بحال ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ تبدیلی کہاں ہے انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملک میں تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی نہ پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، اپوزیشن کا ایجنڈا صرف چور دروازے سے کرسی کا حصول ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا کھلاڑی ہمارا وزیر اعظم ہے۔ اب یہاں کوئی اور کھیل نہیں چلے گا۔ نہ کسی ملک سے کوئی کھلینے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا کوئی اور نہیں صرف وزیر اعظم عمران خان ہے۔ ایک وہ وزیراعظم تھا جو مودی کو اپنے گھر لایا اور اماں کے لئے ساڑھیاں تحفے میں دیں۔ نوازدور میں ایئرپورٹ پر مودی کی امیگریشن ہوئی نہ ویزہ لینے کی ضرورت پیش آئی۔ بابر اعوان نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ را کا چیف اور جندال اندر تھے اور ہمارے ادارے سڑک پر۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے ایک صفحے پرہیں۔ عمران خان سے ٹرپل پلس این آر او مانگاجا رہا ہے جنہیں آدھا ملین ووٹ نہیں ملے وہ ملین مارچ کہاں سے کریں گے۔ جمہوریت مستحکم ہے۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ ہر بات پر ریاست کو طعنے دینے والے آخر کس کی خدمت کرتے ہیں۔







