وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان کی معاون خصوصی شہزاد قاسم کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ہر شعبہ میں کارکردگی کو دیکھ کر اپوزیشن چیخ چلا رہی ہے، سابقہ حکومتوں نے توانائی کے شعبہ کو بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا، بجلی کے شعبہ میں اصلاحات اور صارفین تک بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے سے صنعتوں کو فائدہ ہو گا، اصلاحات …

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ہر شعبہ میں کارکردگی کو دیکھ کر اپوزیشن چیخ چلا رہی ہے، سابقہ حکومتوں نے توانائی کے شعبہ کو بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا، بجلی کے شعبہ میں اصلاحات اور صارفین تک بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے سے صنعتوں کو فائدہ ہو گا، اصلاحات سے گردشی قرضہ میں کمی آئے گی، آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی پیداواری لاگت کے حوالہ سے معاہدہ ہو گیا ہے، بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیاں بھی اپنے ریٹس پر نظر ثانی کریں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ بجلی کی لاگت میں کمی حکومتی اصلاحات کا حصہ ہے، ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات میں تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے بجلی کے شعبہ کے مسائل پر کبھی توجہ نہیں دی، ہم نے آئی پی پیز کے ساتھ خوشگوار ماحول میں مذاکرات کئے ہیں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں پہلی بار باہمی اشتراک اور ہم آہنگی سے معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ 1994ئ، 2002ءاور 2006ءکے آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ آئندہ تین ہفتے میں بجلی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ اصلاحات کے پیکیج میں سرکاری پاور پروڈیوسرز کے ریٹ پر نظرثانی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کے گھمبیر مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں، سابقہ حکومتیں ان مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں تھیں، بلوچستان کے ٹیوب ویلز سے سالانہ 44 ارب روپے کی وصولی نہیں ہو پاتی جبکہ اس کے برعکس بلوچستان کا مجموعی سالانہ ترقیاتی پروگرام 80 ارب روپے ہے اور یہ رقم لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہم خرچ کر سکتے ہیں جو ضائع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے گردشی قرضے میں بھی کمی لائی جائے گی، اپوزیشن اس لئے چیخ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہر شعبے میں کارکردگی دکھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی بہتری سے زراعت، صنعت اور چھوٹے کاروبار فروغ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز میں غیر ملکی سپانسرز نے بھی نظرثانی کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ اس کو ہم سراہتے ہیں۔ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ عوام پر بجلی کی قیمت کا بوجھ نہ پڑے، 70 فیصد توانائی ہمیں سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے درآمدی ایندھن سے حاصل کرنا پڑ رہی ہے 2030ءتک ہم ملکی وسائل سے 70 فیصد بجلی پیدا کریں گے اور اس سے بجلی کی قیمت میں بھی کمی آئے گی۔ ہماری تمام تر توجہ توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے پر ہے۔ آئندہ دو تین ہفتوں میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات اور اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔