وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا این ایچ اے کے پہلے جغرافیائی انفارمیشن سسٹم کے اجرا کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی خود انحصاری اور شفافیت کے مقصد کے لئے جیو گرافک انفارمیشن سسٹم کااجرا کر دیا ہے جس کے ذریعے رائیٹ آف وے کے ساتھ پورے نیٹ ورک کی سرگرمیاںمانیٹر ہوں گی اور ریونیو میں اضافہ ہو گا، موجودہ حکومت نے ایک ہفتے کے دوران …

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی خود انحصاری اور شفافیت کے مقصد کے لئے جیو گرافک انفارمیشن سسٹم کااجرا کر دیا ہے جس کے ذریعے رائیٹ آف وے کے ساتھ پورے نیٹ ورک کی سرگرمیاںمانیٹر ہوں گی اور ریونیو میں اضافہ ہو گا، موجودہ حکومت نے ایک ہفتے کے دوران جو خوشی کی خبریں عوام کے لئے دی ہیں ان میں ترسیلات زر میں اضافہ ، پاکستانی سٹاک ایکسچینج کو دنیا میں بہترین قرار دیا جانا، موڈیز کی طرف سے معیشت کو منفی سے مثبت ظاہر کرنا، کورونا پر قابو پانے کی بہترین حکمت عملی کی تعریف، ریلوے نظام کی بہتری کے لئے ایم ایل ون کی ایکنک سے منظوری ، نیو بلیو ایریا پراجیکٹ کی منظوری، حسابات جاریہ اور بجٹ کے خسارے میں کمی آئی ہے، رواں سال اربوں روپے مالیت کے قومی شاہرات اور موٹرویز کے منصوبے شروع ہوں گے جو ماضی کی طرح قومی خزانہ پر بوجھ نہیں ہوں گے، سابقہ حکومت کے آخری دو سال کے مقابلہ میں موجودہ حکومت کے دو سال میں 48.2 فیصد سڑکیں بھی زیادہ بنی ہیں، احساس، رحم اور انصاف ہماراسب سے بڑا مقصد ہے جن پر گامزن ہو کر ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے۔ ان خیالات کااظہار وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے صدر دفتر میں این ایچ اے کے پہلے جغرافیائی انفارمیشن سسٹم کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے اس کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد این ایچ اے کی خود انحصاری اور شفافیت ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے قومی شاہرات کے رائٹ آف ویز کی تمام سرگرمیاں مانیٹر ہوں گی اور جتنے بھی قومی شاہرات کے منصوبے جاری ہیں ان سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایچ اے کی دو سال کی کارکردگی آئندہ ایک دو روز میں قوم کے سامنے لاﺅں گا تاکہ پتہ چل سکے کہ کس طرح مو¿ثر حکمت عملی کے ذریعے قومی شاہرات کے منصوبے بھی بنائے جارہے ہیں اور ریونیو میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ 5 سال کے ہدف سے کم عرصہ میں خود انحصاری حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں قوم کے لئے بہت سی خوشخبریاں آئی ہیں جن کا وزیر اعظم عمران خان نے بھی ذکر کیا ہے۔ ان خوشخبریوں کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز کی مہنگی بجلی کے اثرات سے بچانے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مہمند کے بعد بھاشاڈیم کا افتتاح ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے احساس نشو ونما پروگرام کا آغازکیا جس سے 40 فیصد غذائی قلت کا شکار بچوں کو وظائف دیئے جائیںگے۔جب ہم ایک سال کی خوشخبریوں کی بات کرتے ہیں، احساس پروگرام کی بات کرتے ہیں، کامیاب جوان پروگرام کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف سے جواب آتا ہے کہ ہم نے سڑکیں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی اس بات کو ہی مان لیں تو گزشتہ حکومت کے آخری دو سال اور ہمارے دور کے ابتدائی دو سالوں کا موازنہ کرلیں تو ہم نے احساس، رحم اور انصاف کے ساتھ ساتھ 48.2 فیصد زائد سڑکیں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن ایسی سڑکیں بنانا ہے جو معاشی اعتبار سے قابل عمل ہوں اور قومی خزانے پر بوجھ نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ حیدر آباد۔سکھر موٹر وے کی ایکنک سے منظوری ہو چکی ہے جس پر رواں سال کام شروع ہو جائے گا۔ سنٹرل پنجاب کے گرد رنگ روڈ، سیالکوٹ۔کھاریاں۔ راولپنڈی، بالکسر۔میانوالی، میانوالی۔مظفر گڑھ اور این 25 کے منصوبے، 754 کلومیٹر کوئٹہ۔چمن۔کراچی شاہراہ، شاہدرہ فلائی اوور بھارہ کہو پراجیکٹ کی فزیبلییٹی اس سال مکمل کر لی جائے گی۔ ان منصوبوں سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور قومی خزانے پر بوجھ بھی کم پڑے گا اور اسی طرح شکارپور۔راجن پور، راجن پور۔ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ غازی خان۔ ڈیرہ اسماعیل خان بھی اس سال شروع ہوں گے جبکہ ہوشاب۔ آواران ، نوکنڈی۔مش خیل کے منصوبوں کا بھی اس سال آغاز ہو گا۔ لودھراں۔ملتان بھی اسی سال شرو ع ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں سے موازنہ کریں تو ہماری سڑکیں قومی خزانے پر بوجھ نہیں بلکہ ان پسماندہ علاقوں کو اوپر اٹھانے کے احساس کے ساتھ شروع کی گئی ہیں جس سے معیشت کو بھی فائدہ ہو گا اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو ںگے۔ بدین کے بچوں کی غذائی قلت کی بات ہوتی تھی لیکن اب احساس نشوونما پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت حکومت وظیفہ دے گی۔ اسی طرح 208 ارب روپے کا ایک منصوبہ بیوہ خواتین کے لئے شروع کیا گیا ہے جس کے تحت انہیں وظیفہ دیاجائے گا۔ پناہ گاہوں کے منصوبے شروع کئے گئے تاکہ سڑک کنارے اور فٹ پاتھ پر سونے والوں اور دور افتادہ علاقوں سے اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے آنے والے مسافروں کو سہولت مل سکے ۔ ایک منصوبے سے آغاز ہوا اور اب ان کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق دو سالوں میں اڑھائی ملین لوگوں نے ان میں سکونت اختیار کی اور انہیں قیام کے ساتھ طعام کی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ پہلی بار کسی حکومت نے فٹ پاتھ پر سونے والوں کی ذمہ داری قبول کی اور انہیں ریاست کا مہمان بنایا لیکن مخالفین لنگر خانوںپر تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس ، رحم اور انصاف ہو گا تو ریاست مدینہ کا خواب پورا ہو گا۔ احساس پروگرام اور شیلٹر ہوم ہمارے دل کے قریب منصوبے ہیں۔ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کا کسی نے نہیں سوچا اور ایسا نہیں ہوگا۔ ہم نے بلوچستان اور دور افتادہ اور اندرون سندھ کے پسماندہ علاقوں کے لئے موٹرویز اور ہائی ویز کے منصوبے دیئے تاکہ محروم علاقو ںکو ترقی اور کنیکٹویٹی مل سکے۔ این ایچ اے ایک قومی ادارہ ہے جس کی دو سالہ کارکردگی سن کر آپ کو مسرت ہو گی۔ قبل ازیں وفاقی سیکرٹری مواصلات ظفر حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے کی تاریخ میں یہ دن یادگار کے طورپر رہے گا۔ جغرافک انفارمیشن سسٹم کے لئے مصنوعی ذہانت کو اپنے ڈیجیٹلائزیشن کا حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان وفاقی وزیر مواصلات کے وژن کے مطابق این ایچ اے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سسٹم کے لئے نہ صرف این ایچ اے کے اثاثوں کو مانیٹر کیا جا سکے گا بلکہ یہ ایک نیا رجحان ہے جسے دیگر سرکاری اداروں کے لئے بھی مثال بنائیں گے۔ مستقبل میں نئے روڈ کے سروے کرنے اور ان کی کارکردگی جانچنے کے لئے اس سسٹم کے ذریعے فائدہ ہو گا۔ سپارکو کو بھی اس سسٹم سے منسلک کر رہے ہیں تاکہ جیو انفارمیشن میں ان کے تجربے سے استفادہ کیا جا سکے۔ یہ سسٹم منصوبوں کے اخراجات کو کم کرنے میں بھی مدد گار ہو گا۔ این ایچ اے کے افسران پر زور دیتے ہوئے سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ ان تبدیلیو ںکی طرف بڑھنا ہو گا جس سے ملک و قوم کو فائدہ ہو گا۔ جغرافیائی انفارمیشن سسٹم کے اجرا پر این ایچ اے کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ قبل ازیں این ایچ اے کے چیئرمین کیپٹن (ر)سکندر قیوم نے بھی اس سسٹم اور این ایچ اے کی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی اور کہا کہ شفافیت اور خدمات میں بہتری ہمارا نصب العین ہے اور وفاقی وزیر مواصلات کی ہدایت کے مطابق این ایچ اے کا ٹھیکوں کے اجرا ،وصولیوں اور ادائیگیوں میں شفافیت کی طرف گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کے 13 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر نیٹ ورک پر 84 فیصد ٹریفک چلتی ہے اور پورا لوڈ ذمہ داری کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رپیئر اور مینٹیننس کے لئے فنڈز درکار ہوتے ہیں لیکن این ایچ اے نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے محصولات میں اضافہ کر کے خود انحصاری کی جانب بڑھنے کا آغاز کیا ہے اور اس وقت این ایچ اے کے محصولات 34 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور وفاقی وزیر کے وژن کے مطابق خود انحصاری کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک جو بھی اہداف ملے وہ پورے کئے ہیں۔ این ایچ اے کے افسران کا اس حوالے سے ایک اہم کردار ہے جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی انفارمیشن سسٹم کے ہدف کو این ایچ اے کے افسران کی مدد سے حاصل کیا گیا ہے اور بہت سی ایسی عمارتوں کی نشاندہی ہو ئی جس کے ذریعے 500 ملین روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔ ایک نئے چینل کے ذریعے ہماری ٹیم آگے بڑھ رہی ہے اور سپارکوکے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ جغرافیائی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے مرحلہ وار مانیٹرنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور اب تک 2 لاکھ 20 ہزار 910 کمرشل عمارتیں، ایک لاکھ 32 غیرکمرشل سٹرکچر، این اےچ اے کے رائٹ آف وے کے ساتھ نشاندہی کئے جا چکے ہیں، سائن بورڈ، مساجد، پل، انڈر پاس اور دیگر سٹرکچر شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ٹول کو استمعال کرتے ہوئے اس سسٹم کو اپ گریڈ کیاجا ئے گا تاکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے۔