اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہے، نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، نیب کو بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے قائم کیا گیا، نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے، نیب افسران کی محنت، عزم، …
نیب بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے کے لئے پرعزم ہے، افسران بدعنوان عناصر معصوم شہریوں سے لوٹی گئی رقوم کی وصولی کی کوششیں دوگنا کریں، چیئرمین جسٹس جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہے، نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، نیب کو بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے قائم کیا گیا، نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے، نیب افسران کی محنت، عزم، حوصلے اور میرٹ کو معتبر عالمی و قومی ادارے وقتاً فوقتاً سراہتے رہتے ہیں۔ نیب اعلامیے کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیب افسران بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور ان سے معصوم شہریوں سے لوٹی گئی رقوم کی وصولی کے لئے اپنی کوششیں دوگنا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جو کہ دو انویسٹی گیشن آفسیر، ایک لیگل کنسلٹنٹ، مالیاتی ماہر، فرانزک ماہر پر مشتمل ہے جو کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر/کیس آفیسر اور متعلقہ ڈائریکٹر کی سرگراہی میں کام کرتی ہے تاکہ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں نیب کی پہلی فرانزک سائنس لیبارٹی قائم کی گئی ہے جس سے نیب کے تفتیشی نظام میں بہتری آئی ہے۔ اس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دساویزات اور فنگر پرنٹس کے تجزیئے کی سہولت موجود ہے جس سے انکوائریوں اور انویسٹی گیشن میں ٹھوس شواہد کے حصول اور معیار بہتر بنانے میں مددملی گی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقداری تناظر میں مانیٹرنگ اور ایلیوشن کا نظام وضع کی ہے۔ نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا معیاری اور مقداری طریقہ کار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک کے اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے۔ یہ نیب کی شاندار کارکردگی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ نیب کے احتساب عدالتوں میں مقدمات میں سزا کی شرح 68.8 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سرورق پر لوٹی گئی رقم کی وصولی پر زور دیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 466 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک بدعنوانی کے خلاف انفورسمنٹ پر مبنی پالیسی اپنائی ہے۔ لوگوں کو بدعنوانی کے منفی اثرات سے آگاہی کے لئے انفورسمنٹ کے علاوہ آگاہی و تدارک کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔







