قومی اسمبلی اجلاس، ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے 7 ستمبر کو این سی او سی کے جائزہ اجلاس کے بعد حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا، وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے 7 ستمبر کو این سی او سی ‘ وزارت صحت اور صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل جائزہ اجلاس ہوگا جس کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔ پیر …

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے 7 ستمبر کو این سی او سی ‘ وزارت صحت اور صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل جائزہ اجلاس ہوگا جس کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں عظمیٰ ریاض کے سرکاری سکولوں کے نہ کھولے جانے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم نے کہا کہ سکول کھولنے سے متعلق فیصلہ وزارت تعلیم نہیں کر سکتی۔ اس کا فیصلہ این سی او سی اور وزارت صحت سمیت تمام صوبوں کی کوآرڈینیشن سے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات ستمبر کو اجلاس ہونا ہے جس میں سکولوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔توجہ مبذول نوٹس پر عظمیٰ ریاض ‘ نزہت پٹھان کے سوالات کے جواب میں وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کووڈ کی وجہ سے تعلیم کا نظام متاثر ہوا اور چھوٹے پرائیویٹ سکول زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سٹیٹ بنک کی قرضہ کی سکیم سے تین سے پانچ فیصد شرح سود پر سکول بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سکول بند ہیں اور سکول فیسیں وصول کر رہے ہیں‘ یہ والدین کا نکتہ نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز پر کورونا کی صورتحال میں تمام صوبوں نے 20 فیصد فیسیں کم کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا ، ہم سکول کھولنے کی طرف جارہے ہیں۔ اس حوالے سے نصاب کم کرنے سمیت دیگر تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔