کرائسٹ چرچ ۔ 24 اگست (اے پی پی) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں گذشتہ سال مارچ میں فائرنگ کرکے 51 افراد کو قتل کرنے والے مجرم برینٹن ٹارنٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر کو شروع ہو گئی ہے۔ کراﺅن پراسیکیوٹر برنا بائی ہاویز نے عدالت کو بتایا کہ مجرم نے اپنے جرم کی منصوبہ بندی ایک سال قبل شروع کی۔اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ …
نیوزی لینڈکی مسجد النور میں فائرنگ کرکے 51 افراد کو قتل کرنے والے مجرم کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی

مزید خبریں
کرائسٹ چرچ ۔ 24 اگست (اے پی پی) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں گذشتہ سال مارچ میں فائرنگ کرکے 51 افراد کو قتل کرنے والے مجرم برینٹن ٹارنٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر کو شروع ہو گئی ہے۔ کراﺅن پراسیکیوٹر برنا بائی ہاویز نے عدالت کو بتایا کہ مجرم نے اپنے جرم کی منصوبہ بندی ایک سال قبل شروع کی۔اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنا تھا۔ اپنے جرم کی منصوبہ بندی کے دوران اس نے کرائسٹ چرچ کی مساجد بارے معلومات حاصل کیں، ان کا محل وقوع دیکھا ، ان کے نقشے حاصل کر کے ان کا مطالعہ کیا اور اس بات کا تعین کیا کہ ان میں سب سے زیادہ لوگ کن اوقات میں جمع ہوتے ہیں۔ اپنے جرم کے ارتکاب سے کئی ماہ قبل کرائسٹ چرچ کا سفر کیا اور اپنے تین اہداف میں شامل مسجد النور کے اوپر ڈرون اڑا کر اس کا فضائی جائزہ لیا۔اس نے النور مسجد، لنوڈ اسلامک سینٹر کے علاوہ ایشبرٹن مسجد کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس نے مسجد النور میں فائرنگ کرنے کے بعد باہر آکر اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگنے والوں کو بھی نشانہ بنایا اور ایک شخص کو اپنی گاڑی تلے کچل ڈالا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مجرم نے مسجد النور میں فائرنگ کرنے کے بعد لنوڈ اسلامک سینٹر جاتے ہوئے افریقی نژاد افراد پر بھی فائرنگ کی اور ایک سفید فام شخص کو بھی نشانے پر لیا تاہم پھر مسکراتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔ مجرم نے اپنے اس گھناﺅنے جرم کے مناظر براہ راست دیکھانے کا بھی انتظام کیا تھا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر برینٹن ٹارنٹ نے اپنے خلاف عائد الزامات بشمول51 افراد کے قتل، 40 کے ارادہ قتل اور دہشت گردی کا اعتراف کیا۔ 29 سالہ برینٹن ٹارنٹ کو مذکورہ جرائم پر کم سے کم 17 سال قید اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے جس کے دوران پیرول پر رہائی کی اجازت نہیں ہو گی اور یہ ممکنہ طور پر نیوزی لینڈ میں کسی مجرم اب تک دی جانے والی سب سے سخت سزا ہو گی۔ برینٹن ٹارنٹ کے ہاتھوں مارے جانے والوں اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ نے کرائسٹ چرچ کی مختلف عدالتوں سے وڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کی سماعت کی کارروائی دیکھی۔ ان میں سے 60 کے قریب افراد آئندہ تین دن کے دوران عدالت کے روبرو گواہیاں دیں گے۔ان میں سے کچھ لوگ مقدمے کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے بیرون ملک سے بھی آئے ہیں۔ برینٹن ٹارینٹ نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے منصوبے کو پوری طرح عملی جامہ پہنانا چاہتا تھا۔مجرم نے قبل ازیں اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کیا تھا تاہم بعد میں اس نے عدالت کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ اس واقع کے بعد ایک ماہ کے اندر نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے فوجی طرز کے سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں پر پابندی کا قانون ایک کے مقابلے میں119 ارکان کی حمایت سے منظور کرلیا تھا۔







