کورونا لاک ڈاﺅن کے باوجودگرین ہاﺅس گیسز کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ ہوا، اقوام متحدہ کی رپورٹ

نیویارک ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہونے والے لاک ڈاﺅن کے باوجود اس سال کرہ ارض کی فضا میں گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی محکمہ موسمیات کے سیکرٹری جنرل پیٹری ٹالس نے جاری کردہ رپورٹ ” یونائٹڈ ان سائنس 2020ء“میں بتایا ہے کہ گرین ہاﺅس گیسوں کا …

نیویارک ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہونے والے لاک ڈاﺅن کے باوجود اس سال کرہ ارض کی فضا میں گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی محکمہ موسمیات کے سیکرٹری جنرل پیٹری ٹالس نے جاری کردہ رپورٹ ” یونائٹڈ ان سائنس 2020ء“میں بتایا ہے کہ گرین ہاﺅس گیسوں کا اخراج جو پہلے ہی بلند ترین سطح پر تھا اب بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ 2016ءسے 2020ءکے پانچ سالہ عرصے کو اب تک کا گرم ترین دورانیہ کہا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020ء میں انسانی زندگی کے بہت سارے شعبے آب و ہوا کی اس تبدیلی سے متاثر ہوئے ۔ اپریل 2020ءمیں گرین ہاﺅس گیسوں کا اخراج گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہوا لیکن یہ کمی بھی محدود وقت تک رہی کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے بحران کے بعد جیسے ہی عالمی معیشتیں دوبارہ فعال ہونا شروع ہوئیں تو جون کے شروع میں یہ تناسب 2019ءکے مقابلے میں 5 فیصد رہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 2006ءجتنا تھا جبکہ رواں سال اس میں 4 سے 7 فیصد کمی متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برف پگھلنے اور گلیشئر ختم ہونے سے سمندر کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے جس سے اربوں انسانوں کو پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیٹرس نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لئے طویل المدتی حکمت عملی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کورونا کی وبا سے بحالی کو بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے ایک حقیقی موقع میں تبدیل کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ 2016ءکے معاہدہ پیرس میں دنیا کے189 ممالک نے عہد کیا تھا کہ وہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم کی سطح پر لانے کے لئے کام کریں گے۔