اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے یکساں قومی نصاب پر پیشرفت کے جائزہ کے لئے ہفتہ کو قومی نصاب کونسل (این سی سی) کا دورہ کیا۔آغا خان یونیورسٹی اور لمز سمیت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے ماہرین پر مشتمل مثالی درسی کتب کے ورکنگ گروپ نے وفاقی وزیرکو پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیرتعلیم کو آگاہ کیا کہ مثالی …
وفاقی وزیر تعلیم کا یکساں قومی نصاب پر پیشرفت کے جائزہ کے لئے قومی نصاب کونسل کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے یکساں قومی نصاب پر پیشرفت کے جائزہ کے لئے ہفتہ کو قومی نصاب کونسل (این سی سی) کا دورہ کیا۔آغا خان یونیورسٹی اور لمز سمیت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے ماہرین پر مشتمل مثالی درسی کتب کے ورکنگ گروپ نے وفاقی وزیرکو پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیرتعلیم کو آگاہ کیا کہ مثالی نصابی کتب کی تیاری آخری مرحلے میں ہے اور یہ کتب ملکی تاریخ کی بہترین نصابی کتب ثابت ہوں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ نصاب پر مبنی نئی درسی کتب عصر حاضرکے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے انہیں ہدایت کی کہ اشاعت کے لئے نجی پبلشرزکو ماڈل درسی کتب فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان درسی کتب کی معیاری اور وسیع تر اشاعت کو یقینی بنانے کے لئے حق اشاعت کو محفوظ نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نفاذ کے بعد دیہی علاقوں کے بچوں کے لئے بھی وہی نصاب ہوگا جو ایلیٹ کلاس کے بچوں کے لئے ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کلاس 6 سے 8 تک کے نصاب کا بھی جائزہ لیا۔ مڈل کلاس کے لئے صفر نصاب کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے اور اس نصاب کو سرکاری ، نجی ، مدارس اور کیمبرج کے تعلیمی اداروں کے ساتھ شیئر کیا گیاہے۔انہوں نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ قومی نصاب کو2021 کے پہلے ہفتے تک تیار کر لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ یکساں نظام تعلیم سے تعلیمی عمل میں رٹہ سسٹم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اس نصاب سے بچے کی سیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں میں بہتری آئے گی اور تعلیمی عمل میں یکسانیت ہوگی۔ وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے قومی نصاب کونسل کی ٹیم کی جانب سے کی گئی غیر معمولی کاوشوں کو سراہا۔








