اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریاست، حکومت اور ادارے ایک اکائی ہیں، پاکستان کے مستقبل کیلئے سب کو متحد ہونا چاہیے، حکومت گرانا ایشو نہیں ہے، ملک کو بہت سارے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں، اپوزیشن جماعتیں اگر مل کر منتخب حکومت کو گرانے کا کام کریں گی تو ایسی جمہوریت کے منفی اثرات مرتب ہوں گے،اپوزیشن جماعتوں کو گھر کے اندر …
ریاست، حکومت اور ادارے ایک اکائی ہیں، پاکستان کے مستقبل کیلئے سب کو متحد ہونا چاہیے، کرپشن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریاست، حکومت اور ادارے ایک اکائی ہیں، پاکستان کے مستقبل کیلئے سب کو متحد ہونا چاہیے، حکومت گرانا ایشو نہیں ہے، ملک کو بہت سارے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں، اپوزیشن جماعتیں اگر مل کر منتخب حکومت کو گرانے کا کام کریں گی تو ایسی جمہوریت کے منفی اثرات مرتب ہوں گے،اپوزیشن جماعتوں کو گھر کے اندر توڑ پھوڑ کرنے کی بجائے قوم اور ملک کی ترجیحات کیلئے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، معیشت کو ہینڈل کرنا سب سے مشکل کام تھا، حکومت نے معیشت کی بہتری کیلئے دن رات کام کیا اور اب پاکستان میں معاشی اعتبار سے میکرواکانومی کے اندر مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، حکومت نے تاجروں کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کر دیئے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور غریبوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے، پارلیمانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت نہیں، جو نظام کرپٹ لوگوں کی پرورش کرے ایسا نظام بدلنا چاہیے، نظام کا تعلق دیانت دار قیادت سے ہے، پاکستان میں انسٹی ٹیوشنز بن رہے ہیں، حکومت نے غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے احساس پروگرام شروع کیا اور پناہ گاہیں بنائیں، وہ قومیں جو اپنے غریبوں کو لیکر اٹھیں گی وہاں پر کوئی بھی ترقی کا راستہ روک نہیں سکتا، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے، افغانستان میں امن ہو گا تو افغانستان کے بعد سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا، افغانی حکام سے کہا ہے کہ بھارت سپائلر ہے اسے بیچ میں نہ گھسنے دیا جائے، طویل سوچ وچار کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کشمیر ایشو کو اثر نہ پڑے، بلاتفریق احتساب ہونا چاہیے، کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہفتہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی ترجیحات کے اعتبار سے کام کیا، وزیراعظم عمران خان نے معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے خطرناک اور مثبت اقدام اٹھائے اور دوست ممالک سے پیسہ مانگنے گئے، وزیراعظم عمران خان کے وقار کو پہچانتا ہوں، اگر وہ دوسرے ممالک سے پیسہ مانگنے کیلئے گئے تو انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہوں گی۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے تعمیراتی شعبے کو پیکیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کے باوجود کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم اور برآمدات سمیت سیمنٹ سیکٹر، موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کا بل سبسڈائز کرتی ہے تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو سطح پر حکومت کو اگر آٹا اور چینی پر سبسڈائز کرنا پڑے تو کرے، اشیائے ضروریہ کو ہینڈل کر لیں تاکہ عوام پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے اعتبار سے اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا، وزیراعظم عمران خان میرے لیڈر ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کا صحیح وقت نہیں ہے تو اگر میں کوئی انیشیٹو لو گا تو اس سے کنفیوژن پیدا کروں گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت نے ملک میں انسٹی ٹیوشنز قائم کئے ہیں اور مسلسل کر رہی ہے، کابینہ میں جتنے اجلاس ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی اتنے نہیں ہوئے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اوپر کی سطح پر کرپشن نہیں ہو گی تو نیچے تک اثرات مرتب ہوں گے، ملک میں بلاتفریق احتساب ہونا چاہیے، اگر اداروں کے اندر کوئی کسر ہے تو اسے دور کرنا چاہیے، کرپشن کی لعنت کے خاتمے میں وقت لگے گا لیکن کرپشن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ صدر مملکت نے کہا کہ معیشت کو ہینڈل کرنا سب سے مشکل کام تھا، اب بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے ہر چیز میں پیش رفت دیکھ رہا ہوں، ساری دنیا کی ریاستوں کے اندر مہنگائی اور بے روزگاری کی بات ہوتی ہے، پاکستان کا اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا اور انسٹی ٹیوشنل ہم آہنگی بے انتہا ضروری ہے، چاہتے ہیں کہ فارن ایڈ پر انحصار کم ہو، لونز لینے میں کوئی حرج نہیں، لونز واپس کرنے کیلئے لئے جا سکتے ہیں، مگر ایسا نہ ہو کہ ایسے بحران میں لونز لے رہے ہوں کہ نہیں لئے تو ہمارا برا حال ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن بے انتہا ضروری ہے، افغانستان میں امن ہو گا تو افغانستان کے بعد سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا اس میں کوئی دوہرائے نہیں ہے، پاکستان بننے کے بعد بھارت سپائلر کا کردار ادا کر رہا ہے، عبداللہ عبداللہ سمیت دیگر افغانستان کے اعلی حکام سے کہا ہے کہ وہ اسے بیچ میں نہ گھسنے دیں، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بڑھے گی اور ہم نے گوادر کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے مختص کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سی پیک کوریڈور بہت اہمیت کا حامل ہے، ملک کو خصوصی اقتصادی زونز کی ضرورت ہے، گوادر پورٹ کی ڈویلپمنٹ پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، بھارت برا ہمسایہ ہے، ہم اسے بدل نہیں سکتے لیکن دنیا کو اس کی حرکات بتاتے رہیں گے، بھارت کشمیر کے اندر مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، دنیا کو بار بار بتا رہے ہیں کہ محتاط رہو۔ ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ سال کشمیر کا ایشو زروروں پر چل رہا تھا لیکن مولانا فضل الرحمان نے جب دھرنا دیا تو دنیا کا فوکس کشمیر سے ہٹ کر مولانا کے مارچ پر چلا گیا وہ بڑی کوتاہی تھی، ہم کشمیر پر میڈیا کا فوکس چاہتے ہیں، ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین اور ترکی کے ساتھ دوستانہ اور تاریخی تعلقات ہیں، کوئی بھی دراڑ پیدا نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ابہی نندن کا جہاز گرا کر اور اسے واپس کر کے بھارت کو مزہ چھکایا تھا، پاکستانی فوج اور قوم کا جان دینے کا جذبے کا کوئی متبادل نہیں ہے، پاکستان اپنے دفاع کی مضبوط صلاحیت رکھتا ہے، دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارت جو اپنے لوگوں پر ظلم کرنے جا رہا ہے اس سے نقصان پاکستان کو ہو گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا جاتا ہے، ساری اقلیتں اس وقت پاکستان کے معاملات کے اندر آن بورڈ ہیں، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے، پاکستانی قوم کا کمال ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں دھماکے ہوئے لیکن سول جنگ نہیں ہوئی۔ صدر مملکت نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی تعمیر و ترقی کیلئے جو پیکیج دیا اگر اس پر عمل درآمد ہو جائے تو یہ وفاقی اور سندھ حکومت دونوں کی جیت ہو گی، سیاست میں اختلاف رائے ہو لیکن کام میں کوآپریشن ہونا چاہیے، وزیراعظم عمران اور میں اس معاملے پر کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آئی لینڈز کے مسئلے کو حل کر لے گی، آئی لینڈ ڈویلپمنٹ پیکیج کے اندر مس انڈرسٹینڈنگ دور ہو جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے اس ٹائم فریم کے اندر ہم سے کہیں زیادہ آرڈیننس جاری کئے گئے، اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قانون سازی کا راستہ کھلے گا تو آرڈیننس کا معاملہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو آزادی حاصل ہے، بھارتی میڈیا اپنی حکومت کے بیانیے سے ذرا بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا، صحافیوں پر دباﺅ نہیں ہونا چاہیے۔








