اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):رواں سال کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم میں 39 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے، مہم میں 2 لاکھ 85 ہزار پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائیں گے۔ پیر کو وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے …
قومی انسداد پولیو مہم کے دوران دو لاکھ85ہزار پولیو ورکرز 39 ملین بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلا ئیں گے، وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان
اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):رواں سال کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم میں 39 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے، مہم میں 2 لاکھ 85 ہزار پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائیں گے۔ پیر کو وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ہم بچوں میں قوت مدافعت کو بڑھانے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے کورونا وبا کی وجہ سے بچوں کی قوت مدافعت میں کمی آگئی ہے۔ میں تمام والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ پولیو سے بچائو میں وہ ہمارے ساتھ اپنا کردار ادا کریں اور مہم میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مل کر صحت مند اور پولیو سے پاک پاکستان کا ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔مہم کے دوران پولیو ورکرز کورونا کے قواعد و ضوابط،( ایس او پیز) پر عمل درآمد کرتے ہوئے مہم چلائیں گے۔ ماسک، ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال اور سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں گے۔بیان کے مطابق مہم افغانستان کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہورہی ہے تاکہ وائرس پر بہتر طریقے سے قابو پایا جاسکے۔بیان میں کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہا ہے کہ رواں برس کامیاب پولیو مہمات سے بڑے پیمانے پر بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا اور وائرس پر قابو پانے میں بہتری کا باعث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچائوکے قطرے ضرور پلوائیں۔ تمام مکتبہ فکر بشمول میڈیا، مذہبی رہنما، مشہور شخصیات، ڈاکٹرز و دیگر شعبہ جات کے لوگوں کو مہم کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس پایا جاتا ہے۔ پاکستان کو موجودہ وقت میں پولیو کیسز میں اضافہ کی وجہ سے وائرس کے پھیلائو کا سامنا ہے۔ رواں برس پولیو کے 81 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بلوچستان سے 23، خیبرپختونخوا 22، سندھ 22 اور پنجاب سے 14 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔









