نیب کی عملدرآمدی حکمت عملی کے تحت 278 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کی عملدرآمدی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی ہے جس کے تحت وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام کرتے ہوئے 278 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں۔ نیب کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق نیب پاکستان کا بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والا ادارہ ہے جو 1999ءمیں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کو کرپشن کے …

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کی عملدرآمدی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی ہے جس کے تحت وائٹ کالر کرائمز کی روک تھام کرتے ہوئے 278 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں۔ نیب کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق نیب پاکستان کا بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والا ادارہ ہے جو 1999ءمیں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کو کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری سونپی گئی، نیب کا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہے جبکہ کراچی، پشاور، کے پی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، بلوچستان، ملتان اور سکھر میں 8 علاقائی دفاتر جبکہ گلگت بلتستان میں ایک ذیلی دفتر موجود ہے۔ نیب قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے تحت کام کرتا ہے۔ نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری نے 2013ءمیں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیب کی تشکیل نو کے لئے متعدد اقدامات کئے اور ملک سے کرپشن اور غلط کاریوں کے خاتمے کے لئے ایک موثر اور جامع قومی انسداد کرپشن حکمت عملی وضع کی۔ بیان کے مطابق نیب کی کرپشن کے خلاف قومی حکمت عملی کو پلڈاٹ اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل جیسے قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے۔ سماجی شعبہ کے ماہرین کے مطابق 2014ءکا سال نیب کے دوبارہ ابھرنے کا سال ہے جس میں نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر ادارے میں بہت سی نئی شروعات کی گئیں جن کا مقصد کسی بھی قسم کے خوف یا پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر کرپشن کے کیسوں کو نمٹانا تھا۔ 2015ءمیں کا سال عمل درآمد کی پالیسی کی کامیابی کے حوالے سے اہم ثابت ہوا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کی موجودہ انتظامیہ نے 2016ءمیں نیب کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

Leave a Reply