اقوام متحدہ ۔19جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ آب و ہوا میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں خشک سالی کے عالمی سانحوں میں ڈرامائی شدت کی وجہ بن رہی ہیں، جس سے زرعی پیداوار، پینے کے لئے محفوظ پانی کے عالمی ذخائر اور انسانی ترقی کے دیگر ناگزیر پہلووں کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔یہ انکشاف آفات کے خطرے کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ …
گلوبل وارمنگ سےخشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔19جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ آب و ہوا میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں خشک سالی کے عالمی سانحوں میں ڈرامائی شدت کی وجہ بن رہی ہیں، جس سے زرعی پیداوار، پینے کے لئے محفوظ پانی کے عالمی ذخائر اور انسانی ترقی کے دیگر ناگزیر پہلووں کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔یہ انکشاف آفات کے خطرے کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے کی 2021کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں خشک سالی کے خطرے کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آب و ہوا کی وجہ سے ہنگامی طور پر جنم لینے والی خشک سالی کے کرہ ارض پر موجود زندگیوں اور لوگوں کے رہن سہن پر مرتب ہونے والے اثرات بدتر ہوتے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے محققین نے کہا ہے کہ خشک سالی نے گزشتہ 40 برسوں میں دنیا بھر میں جتنے لوگوں کو متاثر کیا ہے، اتنا کسی دوسری قدرتی آفت نے نہیں کیا۔قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ مامی مزوتوری نے کہا ہے کہ خشک سالی اس صدی میں اب تک ڈیڑھ ارب لوگوں کو براہ راست متاثر کر چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خشک سالی سے زمینوں کی فصلیں اگانے کی صلاحیت کم اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بارشوں کی تبدیل ہوتی ہوئی شرح اور تسلسل عالمی سطح پر بارش پر انحصار کرنے والی ستر فیصد زراعت کے لئے خطرہ ہے ۔اقوام متحدہ کی نمائندہ کے مطابق، کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ ایسے آبادیوں میں اضافہ ہوگا، جنہیں صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں۔ جس سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھے گا، پانی کی کمی کی وجہ سے تنازعات جنم لیں گے اور لوگوں کو ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑے گا۔







