اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نظرثانی شدہ گردشی قرضہ منیجمنٹ پلان اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگست اور ستمبرکے مہینوں کیلئے 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل معاف کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس جمعہ کویہاں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارکی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر تجارت سیدنویدقمر، وزیر پاور خرم دستگیرخان، وزیر مملکت برائے …
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نظرثانی شدہ گردشی قرضہ منیجمنٹ پلان اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگست اور ستمبر کے مہینوں کیلئے 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل معاف کرنے کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نظرثانی شدہ گردشی قرضہ منیجمنٹ پلان اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگست اور ستمبرکے مہینوں کیلئے 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل معاف کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس جمعہ کویہاں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارکی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر تجارت سیدنویدقمر، وزیر پاور خرم دستگیرخان، وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا، معاون خصوصی محصولات طارق محمودپاشا، معاون خصوصی ڈاکٹرمحمدجہانزیب، چئیرمین ایس ای سی پی، وفاقی سیکرٹریز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی تجویز پر18 نئی ادویات کی قیمتوں کئے تعین کیلئے سمری کاجائزہ لیاگیا۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت کے مقابلہ میں ان نئے ادویات کی قیمت کم ترین سطح پرہے۔اجلاس میں پیراسیٹامول مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق وزارت قومی صحت خدمات کی جانب سے ایک اور سمری پیش کی گئی۔ اس سمری میں ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے پیراسیٹامول 500 ملی گرام ٹیبلٹ کی قیمت 2.67 روپے اور پیراسیٹامول ایکسٹرا کی قیمت3.32 روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔اجلاس میں وزارت توانائی پاور ڈویژن کی جانب سے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے قرضہ اور سرچارچ پرمارک اپ کی ادائیگی سے متعلق سمری پیش کی گئی۔ ای سی سی نے تفصیلی بحث کے بعد 76 ارب روپے کی ریکوری کیلئے رواں سال مارچ سے لیکرجون تک (4 ماہ کیلئے) اس تجویز کی منظوری دی تاہم 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین اور نجی زرعی صارفین اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ای سی سی نے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے اضافی قرضوں کے مارک اپ چارجز کی ریکوری کیلئے مالی سال 2023-24 میں ایک روپیہ فی یونٹ اضافی سرچارچ عائد کرنے کی بھی اجازت دیدی، یہ ایف سی سرچارج سے کور نہ ہونے والے پی ایچ ایل قرضوں کے اضافی مارک اپ چارجز پرعائد ہوگا۔ مندرجہ بالا سرچارجز کااطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پرہوگا تاکہ ملک بھرمیں یکساں ٹیرف کو لاگوکیا جاسکے۔ ای سی سی نے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے واجب الادا 283.28ارب روپے کے بنیادی اقساط کو دوسالوں کیلئے موخر کردیا اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی وہ 283.287 ارب روپے کی نئی سہولت کے ضمن میں پرنسپل اور سود کی ادائیگی کیلئے حکومتی ضمانت جاری کرے۔
اجلاس میں وزارت توانائی(پاور ڈویژن) کی جانب سے اگست اور ستمبر2022 کیلئے غیرہموار فیول اخراجات ایڈجسٹمنٹ کی ریکوری سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا اور اس کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ستمبر2022 کیلئے کمرشل صارفین کے بجلی کے بل اگلے بلنگ سائیکل تک موخرکرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح اگست اور ستمبر2022 میں 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے بل معاف کر دئیے گئے۔
ای سی سی نے مقصدکیلئے 10.34 ارب روپے کے اضافی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں وزارت توانائی پاور ڈویژن کی سمری پرنظرثانی شدہ گردشی قرضہ منیجمنٹ پلان کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں کامیاب جوان پروگرام کے حوالہ سے وزارت خزانہ کی جانب سے سمری پیش کی گئی۔ ای سی سی نے ہول سیل لینڈرز کے کلیمز کی تصدیق کا اختیار سٹیٹ بینک کے سپرد کرنے کی منظوری دیدی۔اجلاس میں وزارت دفاع کیلئے 450 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔








