اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹررضا امیری مغدام نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اقتصادی اور تجارتی انضمام کے باعث آئندہ چند سالوں میں دو طرفہ تجارت کو سالانہ 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی، ریل اور سمندری انضمام کے ذریعے دو طرفہ …
پاک ایران دوطرفہ تجارت کوسالانہ 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، ایرانی سفیر کا تاجر برادری سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹررضا امیری مغدام نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اقتصادی اور تجارتی انضمام کے باعث آئندہ چند سالوں میں دو طرفہ تجارت کو سالانہ 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی، ریل اور سمندری انضمام کے ذریعے دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کا قوی امکان ہےجو علاقائی اور عالمی تجارت میں بھی ایک عمل انگیز ثابت ہوگا۔
ایران کےسفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران جیو اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم ممالک ہیں جو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہیں اس لیے دونوں ممالک کا زمینی اور سمندری انضمام جیو اکانومی کی دنیا میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مزید بہتر بنانےکیلئے 12 سرحدی تجارتی منڈیاں کھولی گئی ہیں جن میں سے 6 بارڈر مارکیٹیں مکمل ہو چکی ہیں اور باقی پر کام جاری ہے جس سے دونوں ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی انضمام کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ گوادر اور چابہار سمندری تجارتی تعلقات کے حوالے سے بہت اہم ہیں اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ دونوں بندرگاہوں کو کوسٹل سسٹر پورٹس قرار دیں تاکہ باہمی اقتصادی ترقی مشترکہ طور پر ہو سکے۔ ڈاکٹر رضا امیری مغدام نے کہا کہ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم اور D-8 جیسے بڑے فورمز کے رکن ہیں جن میں مشترکہ اقتصادی اہداف پر کام کرنا بہت آسان ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)اور بی آر آئی دونوں میگا پراجیکٹس پاکستان اور ایران کے لیے انتہائی اہم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا مختلف اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اقتصادی طور پر جڑی ہوئی ہے اس لیے یہ راہداری دونوں ممالک کی معیشت کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کا شعبہ دونوں ممالک کے لیے بہت اہم ہے جس پر دونوں جانب کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم 2.5 بلین ڈالر ہے جس میں گزشتہ سال سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں سالانہ 5 بلین ڈالر کا امکان ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس ایران میں زراعت ، صنعت اور حلال مصنوعات بالخصوص گوشت کی بہت زیادہ تجارتی صلاحیت موجود ہے جسے ایران پہلے ہی مختلف ممالک سے درآمد کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران میں سیاحت، زراعت اور تجارت کو انتہائی اہمیت حاصل ہےخاص طور پر سیاحت میں دونوں ممالک میں بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے اور ایران میں حکومت اس سلسلے میں بھرپور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان علمی معیشت میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں اور دونوں ممالک میں خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی تاجر برادریوں کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کو آئندہ اپریل 2024 میں تہران شہر میں منعقد ہونے والی تجارتی اور صنعتی نمائشوں میں شرکت کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری بالخصوص اسلام آباد چیمبر آف کامرس کو نمائش میں شرکت کرنی چاہیے اور ایران کی تاجر برادری کے ساتھ باہمی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران میں ہونے والی تجارتی اور صنعتی نمائش میں تقریباً 120 تاجروں نے اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے جس میں آنے والے دنوں میں اضافہ متوقع ہے۔








