ہنوئی۔21جون (اے پی پی):روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میدان جنگ میں روس کو سٹریٹجک شکست دینا چاہتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں، اگرہمارے ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا تو ہم تمام دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے اپنے دورہ ویتنام کے دوران پریس کانفرنس سےخطاب میں کہا کہ مغرب کو …
امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی روس کو میدان جنگ میں سٹریٹجک شکست دینے کی خواہش پوری نہیں ہو گی، روسی صدر

مزید خبریں
ہنوئی۔21جون (اے پی پی):روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میدان جنگ میں روس کو سٹریٹجک شکست دینا چاہتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں، اگرہمارے ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا تو ہم تمام دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے اپنے دورہ ویتنام کے دوران پریس کانفرنس سےخطاب میں کہا کہ مغرب کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ روس کو شکست دینا اس کے عوام کے اتحاد کی وجہ سے ناممکن ہے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے مغربی ممالک کے ساتھ روس کی کشیدگی میں اضافہ ہو رہاہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک بظاہر توقع کرتے ہیں کہ ہم کسی وقت خوفزدہ ہوجائیں گے،ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ میدان جنگ میں روس کو سٹریٹجک شکست دینا چاہتے ہیں۔ روس کے لیے اس کا مطلب روسی ریاست کا خاتمہ ہے۔ اس کا مطلب روسی ریاست کی ہزار سالہ تاریخ کا خاتمہ ہے جو ممکن نہیں۔روسی صدر نے اعتراف کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق کسی بھی تنازع کےپوری انسانیت کے لیے سنگین نتائج ہوں گے، لیکن انھوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا تو روسی حکومت تمام دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوگی۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا روس اپنے جوہری ڈاکٹرائن کو تبدیل کر کے اس میں پیشگی جوہری حملے کے امکان بارے شق شامل کر سکتا ہے، صدر ولادیمیر پیوٹن نے زور دے کر کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی تک کسی پیشگی حملے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس دشمن کے جوابی حملے میں تباہ ہونے کی ضمانت موجود ہے۔








