نیویارک ۔20دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل جس نے ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ میں قتل کیا ہے، جانتے بوجھتے فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی تک سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ اس کے اس انتہا کو چھوئے ہوئے یہ اقدامات نسل کشی ہیں۔العربیہ کے مطابق اسرائیل کی یہ جنگی پالیسی …
ہیومن رائٹس واچ کا غزہ میں فلسطینیوں کو جبری طور پر پیاسا رکھنے کا انکشاف

مزید خبریں
نیویارک ۔20دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل جس نے ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ میں قتل کیا ہے، جانتے بوجھتے فلسطینیوں کو پینے کے صاف پانی تک سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
اس کے اس انتہا کو چھوئے ہوئے یہ اقدامات نسل کشی ہیں۔العربیہ کے مطابق اسرائیل کی یہ جنگی پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کے قتل عام کے لیے کوشاں ہے اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اسرائیلی حکام انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔
ہیومن رائٹس واچ نے مزید کہا ‘غزہ میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے یہ 1948 کے کنونشن کی رو سے نسل کشی کا اقدام ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے اپنے اس روایتی تردیدی مؤقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا ہے اور سات اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کا جواب دے رہا ہے، جو اس کا دفاعی حق ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے لکھا ہے ‘سچ یہ ہے کہ ‘ہیومن رائٹس واچ’ کی رپورٹ جھوٹ ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر خوراک، پانی اور دوسری اشیاء کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔
بلکہ امدادی سامان کے قافلوں پر حماس کی طرف سے حملے کئے جاتے ہیں۔مشرق وسطیٰ کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ دیکھا ہے اور اس بارے میں شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی حکومت جانتے بوجھتے فلسطینیوں کو قتل کرتی ہے اور اس کی تردید کر دیتی ہے کہ پانی زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔جواباً اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے یہ یقینی بنایا ہے کہ غزہ میں پانی کی سپلائی کا انفراسٹرکچر اپنا آپریشن بحال رکھ سکے۔ اسی طرح اسرائیل کے بین الاقوامی شراکت دار پانی کے ٹینکر اسرائیلی راہداریوں سے لے کر غزہ جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے بھی پانی کے ٹینکر لے کر گئے ہیں۔ اب تک اسرائیل غزہ میں 1.2 ملین ٹن کی امداد غزہ میں فراہم کرنے کی اجازت دے چکا ہے۔خیال رہے ہیومن رائٹس واچ دوسرا بڑا انسانی حقوق گروپ ہے جس نے اس مہینے کے دوران اپنی مرتب شدہ رپورٹ میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔








