21.6 C
Islamabad
ہفتہ, اپریل 5, 2025
ہومقومی خبریںسلامتی کونسل تنازعات والے علاقوں میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں پر حملوں...

سلامتی کونسل تنازعات والے علاقوں میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں پر حملوں کے لیے احتساب کو یقینی بنائے، پاکستان

- Advertisement -

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):پاکستان نے دنیا بھر میں تنازعات والے علاقوں میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی ریکارڈ اموات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیوں اور قانونی کارروائی پر زور دے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نےسلامتی کونسل میں مسلح تصادم میں شہریوں کے تحفظ پر بحث کے دوران کہا کہ استثنیٰ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ استثنیٰ محض انصاف کی ناکامی نہیں بلکہ یہ پر تشدد کارروائیوں کو دہرانے کا لائسنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مجرموں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اس قرارداد کے لیے ’’عالمی عمل درآمد ڈیش بورڈ‘‘ بنانے پر زور دیا ۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کےکارکنوں پر بڑھتے حملے بین الاقوامی اصولوں کی بڑھتی بے توجہی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ جو لوگ بے گھر ہونے والے لوگوں کو وقار فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں انہیں سراہنے کی بجائے ان پر گولی چلائی جائے ،ایڈ ورکر سکیورٹی ڈیٹا بیس کے مطابق 2024 میں انسانی حقوق کے 379 اہلکار ہلاک ہوئے جو ریکارڈ پر سب سے مہلک سال رہا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ جمہوریہ کانگو، سوڈان، ہیٹی، لبنان اور یمن کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، یہ بحران غزہ سے زیادہ کہیں بھی واضح نہیں جہاں 23 اکتوبر کی اسرائیلی جنگ میں اب تک اقوام متحدہ کے متعدد اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو ناکام کر رہے ہیں جو اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے لیے لائف لائن کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2730 میں واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ انسانی ہمدردی کے عملے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تحفظ کے وعدے کی حمایت اقدامات کے ذریعے کی جانی چاہیے، پاکستان اقوام متحدہ کے مشن کے تمام مینڈیٹ میں خاص طور پر امن فوج کی منتقلی کے دوران حفاظتی دفعات کے لازمی انضمام کے مطالبے کی بھی حمایت کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور جنگی حربے کے طور پر انسانی ہمدردی کی رسائی کو ہتھیار بنانا بند ہونا چاہیے، ہمیں درست اور قابل اعتماد معلومات تک عوام کی رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں سے متعلق غلط معلومات پر نظر رکھنی چاہیے اور نقصان دہ مواد پھیلانے کے ذمہ داروں کو سزا دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قرارداد 2730 کے موثر نفاذ کی حمایت اور تمام انسانی اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حفاظت، وقار اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی ہمت ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی بین الاقوامی عزم کے مطابق ہے ،یہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=578095

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں