اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے الزامات کے حوالے سے حکومتی موقف پرمبنی جواب عدالت میں جمع کرا دیا

اسلام آباد۔ 16 جون ( اے پی پی ) اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے بعض قومی اداروں پرلگائے گئے الزامات اور اسے خود تحقیقات کی راہ میں درپیش مشکلات کے حوالے سے حکومتی موقف پرمبنی جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے جس میں ایف بی آر،ایس ای سی پی ،نیب ،وزارت قانون،آئی بی اور وزیرعظم ہاوس کا …

اسلام آباد۔ 16 جون ( اے پی پی ) اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے بعض قومی اداروں پرلگائے گئے الزامات اور اسے خود تحقیقات کی راہ میں درپیش مشکلات کے حوالے سے حکومتی موقف پرمبنی جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے جس میں ایف بی آر،ایس ای سی پی ،نیب ،وزارت قانون،آئی بی اور وزیرعظم ہاوس کا موقف بھی شامل ہے جمعہ کوجمع کرائے گئے جوابات میں قومی اداروں کی جے آئی ٹی کی جانب لگائے گئے الزامات کویکسرمسترد کردیا ہے ، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیرمین نے جے آئی ٹی کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریکارڈ کے مطابق چوہدری شوگرملز کیخلاف تحقیقات 2013 ءمیں بند کی گئی تھیں، اس لئے ریکارڈ میں ٹمپرنگ سے متعلق ادارے پر الزام سراسرغلط اور بے بنیاد ہے یہ تحقیقات موجودہ چیئرمین کے دور سے پہلے ہی بند کی گئی ہیں جبکہ ادارے کی جانب سے ممبرکی نامزدگی کامعاملہ جے آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے سامنے آیا تھا جس کوکام میں روڑے اٹکانے کانام نہیں دیا جاسکتا۔علی عزیز کی تعیناتی کسی بھی واٹس ایپ کال پرنہیں ہوئی جب تک جے آئی ٹی کسی بات سے خود کوئی نتیجہ اخذ نہ کرے ۔

Leave a Reply